تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Tazkir ul Quran التفسير: غافر آية 26

٢٦:٤٠
وقال فرعون ذروني اقتل موسى وليدع ربه اني اخاف ان يبدل دينكم او ان يظهر في الارض الفساد ٢٦
وَقَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُونِىٓ أَقْتُلْ مُوسَىٰ وَلْيَدْعُ رَبَّهُۥٓ ۖ إِنِّىٓ أَخَافُ أَن يُبَدِّلَ دِينَكُمْ أَوْ أَن يُظْهِرَ فِى ٱلْأَرْضِ ٱلْفَسَادَ ٢٦
وَقَالَﱁ
فِرۡعَوۡنُﱂ
ذَرُونِيٓﱃ
أَقۡتُلۡﱄ
مُوسَىٰﱅ
وَلۡيَدۡعُﱆ
رَبَّهُۥٓۖﱇﱈ
إِنِّيٓﱉ
أَخَافُﱊ
أَنﱋ
يُبَدِّلَﱌ
دِينَكُمۡﱍ
أَوۡﱎ
أَنﱏ
يُظۡهِرَﱐ
فِيﱑ
ٱلۡأَرۡضِﱒ
ٱلۡفَسَادَﱓ
٢٦ﱔ
وقال فرعون لأشراف قومه: اتركوني أقتل موسى، وليدع ربه الذي يزعم أنه أرسله إلينا، فيمنعه منا، إني أخاف أن يُبَدِّل دينكم الذي أنتم عليه، أو أن يُظْهِر في أرض «مصر» الفساد.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 40:26إلى 40:27

’’تمھارا دین بدل ڈالے‘‘ کا مطلب ہے تمھارامذہب بدل ڈالے۔ یعنی تم جس مذہبی طریقہ پر ہو اور جو تمھارے اکابر سے چلا آرہا ہے، وہ ختم ہوجائے اور لوگوں کے درمیان نیا مذہب رائج ہوجائے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ہندستان میںكچھ انتہا پسند لوگ کہتے ہیں کہ مذہب کی تبلیغ کو قانونی طورپر بند کرو، ورنہ دوسرے مذہب والے اپنی تبلیغ سے دیش کے دھرم کو بدل ڈالیں گے۔

فساد سے مراد بد امنی ہے۔ یعنی موسیٰ کو اپنے ہم قوموں میں ساتھ دینے والے مل جائیں گے۔ اور ان کو لے کر وہ ملک میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس ليے ہم کو چاہيے کہ ہم شروع ہی میں انھیں قتل کردیں۔

حق کو ماننے میں سب سے بڑی رکاوٹ آدمی کی متکبرانہ نفسیات ہوتی ہے۔ وہ اپنے کو اونچا رکھنے کی خاطر حق کو نیچا کردینا چاہتا ہے۔ مگر حق کا مددگار اللہ رب العالمین ہے۔ ابتداء ًخواہ اس کے مخالفین بظاہر اس کو دبالیں مگر اللہ کی مدد اس بات کی ضمانت ہے کہ آخری کامیابی بہر حال حق کو حاصل ہوگی۔