تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Tazkir ul Quran التفسير: غافر آية 22

٢٢:٤٠
ذالك بانهم كانت تاتيهم رسلهم بالبينات فكفروا فاخذهم الله انه قوي شديد العقاب ٢٢
ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانَت تَّأْتِيهِمْ رُسُلُهُم بِٱلْبَيِّنَـٰتِ فَكَفَرُوا۟ فَأَخَذَهُمُ ٱللَّهُ ۚ إِنَّهُۥ قَوِىٌّۭ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ ٢٢
ذَٰلِكَﲜ
بِأَنَّهُمۡﲝ
كَانَتﲞ
تَّأۡتِيهِمۡﲟ
رُسُلُهُمﲠ
بِٱلۡبَيِّنَٰتِﲡ
فَكَفَرُواْﲢ
فَأَخَذَهُمُﲣ
ٱللَّهُۚﲤﲥ
إِنَّهُۥﲦ
قَوِيّٞﲧ
شَدِيدُﲨ
ٱلۡعِقَابِﲩ
٢٢ﲪ
ذلك العذاب الذي حلَّ بالمكذبين السابقين، كان بسبب موقفهم من رسل الله الذين جاؤوا بالدلائل القاطعة على صدق دعواهم، فكفروا بهم، وكذَّبوهم، فأخذهم الله بعقابه، إنه سبحانه قوي لا يغلبه أحد، شديد العقاب لمن كفر به وعصاه.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 40:21إلى 40:22

دنیا کی تاریخ میں کثرت سے ایسے واقعات ہیں کہ ایک قوم ابھری اور پھر مٹ گئی۔ ایک قوم جس نے زمین پر شاندار تمدن کھڑا کیا، آج اس کا تمدن کھنڈر کی صورت میں زمین کے نیچے دبا ہوا پڑا ہے۔ ایک قوم جس کو کسی وقت ایک زندہ واقعہ کی حیثیت حاصل تھی، آج وہ صرف ایک تاریخی واقعہ کے طورپر قابل ذکر سمجھی جاتی ہے۔

اس قسم کے واقعات لوگوں کےلیے معلوم واقعات ہیں مگر لوگوں نے ان واقعات کو ارضی حوادث یا سیاسی انقلاب کے خانہ میں ڈال رکھا ہے۔لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ سب خدائی فیصلے تھے جو سچائی کے انکار کے نتیجے میںان قوموں پر نازل ہوئے۔ اگرہم کو وہ نگاہ حاصل ہو جس سے ہم معنوی حقیقتوں کو دیکھ سکیں تو ہم کو نظر آئے گا کہ ہر واقعہ خدا کے فرشتوں کے ذریعہ انجام پارہا تھا، اگر چہ بظاہر دیکھنے والوں کو وہ دنیوی اسباب کے تحت ہوتا ہوا دکھائی دیا۔