تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

تفسير Tazkir ul Quran: سورة غافر، الآية 16

١٦:٤٠
يوم هم بارزون لا يخفى على الله منهم شيء لمن الملك اليوم لله الواحد القهار ١٦
يَوْمَ هُم بَـٰرِزُونَ ۖ لَا يَخْفَىٰ عَلَى ٱللَّهِ مِنْهُمْ شَىْءٌۭ ۚ لِّمَنِ ٱلْمُلْكُ ٱلْيَوْمَ ۖ لِلَّهِ ٱلْوَٰحِدِ ٱلْقَهَّارِ ١٦
يَوۡمَﲻ
هُمﲼ
بَٰرِزُونَۖﲽﲾ
لَاﲿ
يَخۡفَىٰﳀ
عَلَىﳁ
ٱللَّهِﳂ
مِنۡهُمۡﳃ
شَيۡءٞۚﳄﳅ
لِّمَنِﳆ
ٱلۡمُلۡكُﳇ
ٱلۡيَوۡمَۖﳈﳉ
لِلَّهِﳊ
ٱلۡوَٰحِدِﳋ
ٱلۡقَهَّارِﳌ
١٦ﳍ
يوم القيامة تظهر الخلائق أمام ربهم، لا يخفى على الله منهم ولا مِن أعمالهم التي عملوها في الدنيا شيء، يقول الله سبحانه: لمن الملك والتصرف في هذا اليوم؟ فيجيب نفسه: لله المتفرد بأسمائه وصفاته وأفعاله، القهَّار الذي قهر جميع الخلائق بقدرته وعزته.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 40:13إلى 40:17

کائنات میں بے شمار نشانیاں ہیں جو تمثیل کی زبان میں حقیقت کا درس دے رہی ہيں۔ انھیں میں سے ایک نشانی بارش کا نظام ہے۔ یہ مادّی واقعہ وحی کے معنوی معاملہ کو ممثل کررہا ہے۔ جس طرح بارش زرخیز زمین کےلیے مفید ہے اور بنجر زمین کےلیے غیر مفید، اسی طرح وحی بھی خدا کی معنوی بارش ہے۔ جن لوگوں نے اپنے سینے کھلے رکھے ہوں ان کے اندر یہ بارش داخل ہو کر ان کے وجود کو سرسبز وشاداب کردیتی ہے۔ اس کے برعکس، جن لوگوں کے دل غیر خدائی بڑائیوں سے بھرے ہوئے ہوں وہ گویا بنجر زمین ہیں۔ وہ وحی کے فائدوں سے محروم رہیں گے۔

اللہ اپنے بند وں سے پوری طرح واقف ہے۔ وہ جس بندہ کو اہل پاتا ہے اس کو اپنے پیغام کی پیغام رسانی کےلیے چن لیتاہے۔ اس پیغام کا خاص نشانہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو آنے والے دن سے آگاہ کیا جائے جب کہ وہ بادشاہ کائنات کے سامنے کھڑے کيے جائیںگے جس سے کسی کی کوئی بات چھپی ہوئی نہیں۔ اور نہ کوئی ہے جو اس کے فیصلہ پر اثر اندازہوسکے۔