تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Tazkir ul Quran التفسير: الطور آية 49

٤٩:٥٢
ومن الليل فسبحه وادبار النجوم ٤٩
وَمِنَ ٱلَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَإِدْبَـٰرَ ٱلنُّجُومِ ٤٩
وَمِنَﳚ
ٱلَّيۡلِﳛ
فَسَبِّحۡهُﳜ
وَإِدۡبَٰرَﳝ
ٱلنُّجُومِﳞ
٤٩ﳟ
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 52:48إلى 52:49

’’ خدا کا فیصلہ آنے تک صبر کرو‘‘ کا مطلب یہ ہے كه مخاطب کی طرف سے ہر قسم کی ناگوار باتوں کے پیش آنے کے باوجود دعوت کا کام اس وقت تک جاری رکھو جب تک خود خدا کے نزدیک اس کی حد نہ آجائے۔ جب یہ حد آتی ہے تو اس وقت خدا کا فیصلہ ظاہر ہو کر حق اور ناحق کے فرق کو عملی طور پر ظاہر کر دیتا ہے جس کواس سے پہلے صرف نظری طور پر ظاہر کرنے کی کوشش کی جارہی تھی۔

اس پوری مدت میں داعی مکمل طور پر خدا کی حفاظت میں ہوتا ہے ۔ داعی کا کام یہ ہے کہ وہ اللہ کی طرف متوجہ رہے۔ اور یہ یقین رکھے کہ اللہ اس کو ہر آن اپنی حفاظت میں ليے ہوئے ہے۔