تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الطور ٤٠:٥٢

٤٠:٥٢
ام تسالهم اجرا فهم من مغرم مثقلون ٤٠
أَمْ تَسْـَٔلُهُمْ أَجْرًۭا فَهُم مِّن مَّغْرَمٍۢ مُّثْقَلُونَ ٤٠
أَمۡ
تَسۡـَٔلُهُمۡ
أَجۡرٗا
فَهُم
مِّن
مَّغۡرَمٖ
مُّثۡقَلُونَ
٤٠
بل أتسأل -أيها الرسول- هؤلاء المشركون أجرًا على تبليغ الرسالة، فهم في جهد ومشقة من التزام غرامة تطلبها منهم؟
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 52:40إلى 52:43

مدعو گروہ ہمیشہ مادہ پرستی کی سطح پر ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں مدعو کو اگر یہ احساس ہو کہ داعی اس سے اس کی کوئی مادی چیز لینا چاہتا ہے تو وہ فوراً اس کی طرف سے متوحش ہوجائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اپنے اور مخاطبین کے درمیان کسی قسم کے مادی مطالبہ کی بات کبھی نہیں آنے دیتا۔ وہ اپنے اور مخاطبین کے درمیان آخر وقت تک بے غرضی کی فضا باقی رکھتا ہے۔ خواہ اس کے لیے اسے یک طرفہ طور پر مادی نقصان برداشت کرنا پڑے۔

داعی جب اپنی دعوت کے حق میں اس حد تک سنجیدگی کا ثبوت دے دے تو اس کے بعد وہ خدا کی اس نصرت کا مستحق ہوجاتا ہے کہ منکرین کی ہر تدبیر ان کے اوپر الٹی پڑے۔ وہ کسی بھی طرح داعی کو مغلوب کرنے میں کامیاب نہ ہوں۔