تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

تفسير Fi Zilal al-Quran: سورة الطور، الآية 31

٣١:٥٢
قل تربصوا فاني معكم من المتربصين ٣١
قُلْ تَرَبَّصُوا۟ فَإِنِّى مَعَكُم مِّنَ ٱلْمُتَرَبِّصِينَ ٣١
قُلۡﳓ
تَرَبَّصُواْﳔ
فَإِنِّيﳕ
مَعَكُمﳖ
مِّنَﳗ
ٱلۡمُتَرَبِّصِينَﳘ
٣١ﳙ
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

قل تربصوا ........ المتربصین (25 : 13) ” ان سے کہو اچھا انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں “ اور تمہیں جلدی معلوم ہوجائے گا کہ اچھا انجام کس کا ہونے والا ہے اور کس کو فتح و کامرانی ہوتی ہے۔

قریش کے اکابر کو کہا جاتا تھا کہ یہ ذوی الاحلام ہیں اشارہ اس طرف تھا کہ یہ بہت عقلمند ہیں اور معاملات بڑی دانشمندی سے چلاتے ہیں۔ قرآن مجید ان کے ساتھ ان کی اس دانشمندی پر سنجیدہ مزح کرتا ہے کہ ان کا طرز عمل تو عقل و دانش کے سرابر منافی ہے۔ پوچھا جاتا ہے کہ حضرت محمد کے بارے میں ان کی رائے اور وحی و رسالت کا انکار کیا ان کی وہ دانشمندی ہے بلکہ یہ سرکش ہیں اور ان کی عقل جس بات کو تسلیم کرتی ہے یہ لوگ اس سے سرتابی کرتے ہیں۔