تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Bayan ul Quran التفسير: الطور آية 30

٣٠:٥٢
ام يقولون شاعر نتربص به ريب المنون ٣٠
أَمْ يَقُولُونَ شَاعِرٌۭ نَّتَرَبَّصُ بِهِۦ رَيْبَ ٱلْمَنُونِ ٣٠
أَمۡﳋ
يَقُولُونَﳌ
شَاعِرٞﳍ
نَّتَرَبَّصُﳎ
بِهِۦﳏ
رَيۡبَﳐ
ٱلۡمَنُونِﳑ
٣٠ﳒ
أم يقول المشركون لك -أيها الرسول-: هو شاعر ننتظر به نزول الموت؟ قل لهم: انتظروا موتي فإني معكم من المنتظرين بكم العذاب، وسترون لمن تكون العاقبة.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت 30{ اَمْ یَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِہٖ رَیْبَ الْمَنُوْنِ۔ } ”کیا ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک شاعر ہے ‘ جس کے لیے ہم منتظر ہیں گردش زمانہ کے ؟“ مشرکین مکہ آپس میں ایک دوسرے کو یہ کہہ کر تسلی دیتے تھے کہ محمد ﷺ محض ایک شاعر ہیں۔ ان کے شاعرانہ کلام سے متاثر ہونے میں جلدی مت کرو ‘ کچھ دیر انتظار کرو گے wait and see ! ‘ تو ان کے دعو وں کی اصل حقیقت خود بخود کھل کر سامنے آجائے گی۔ ہمیں قوی امید ہے کہ بہت جلد یہ خود ہی گردش زمانہ کی لپیٹ میں آجائیں گے۔