تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Tazkir ul Quran التفسير: الطور آية 26

٢٦:٥٢
قالوا انا كنا قبل في اهلنا مشفقين ٢٦
قَالُوٓا۟ إِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِىٓ أَهْلِنَا مُشْفِقِينَ ٢٦
قَالُوٓاْﲨ
إِنَّاﲩ
كُنَّاﲪ
قَبۡلُﲫ
فِيٓﲬ
أَهۡلِنَاﲭ
مُشۡفِقِينَﲮ
٢٦ﲯ
وأقبل أهل الجنة، يسأل بعضهم بعضًا عن عظيم ما هم فيه وسببه، قالوا: إنا كنا قبل في الدنيا- ونحن بين أهلينا- خائفين ربنا، مشفقين من عذابه وعقابه يوم القيامة. فمنَّ الله علينا بالهداية والتوفيق، ووقانا عذاب سموم جهنم، وهو نارها وحرارتها. إنا كنا من قبلُ نضرع إليه وحده لا نشرك معه غيره أن يقينا عذاب السَّموم ويوصلنا إلى النعيم، فاستجاب لنا وأعطانا سؤالنا، إنه هو البَرُّ الرحيم. فمن بِره ورحمته إيانا أنالنا رضاه والجنة، ووقانا مِن سخطه والنار.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 52:21إلى 52:28

آخرت میں ایسا نہیں ہوگا کہ ایک شخص کا گناہ دوسرے شخص کے اوپر ڈال دیا جائے۔ اور نہ کوئی شخص ایمان و عمل کے بغیر جنت میں داخلہ پا سکے گا۔ البتہ اہل جنت کے ساتھ ایک خاص فضل کا معاملہ یہ ہوگا کہ والدین اگر جنت کے بلند درجہ میں ہوں اور ان کی اولاد کسی اور درجے میں تو اولاد کو بھی ان کے والدین کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔ تاکہ انہیں مزید خوشی حاصل ہوسکے۔

جنت کی لطیف دنیا میں داخلہ کا مستحق صرف وہ شخص ہوگا جس کا حال یہ تھا کہ اپنے بیوی بچوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی اس کو اللہ کا خوف تڑپائے ہوئے تھا، اور جس نے اپنی امیدوں اور اپنے اندیشوں کو صرف ایک اللہ کے ساتھ وابستہ کر رکھا تھا۔