تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Bayan ul Quran التفسير: الطور آية 26

٢٦:٥٢
قالوا انا كنا قبل في اهلنا مشفقين ٢٦
قَالُوٓا۟ إِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِىٓ أَهْلِنَا مُشْفِقِينَ ٢٦
قَالُوٓاْﲨ
إِنَّاﲩ
كُنَّاﲪ
قَبۡلُﲫ
فِيٓﲬ
أَهۡلِنَاﲭ
مُشۡفِقِينَﲮ
٢٦ﲯ
وأقبل أهل الجنة، يسأل بعضهم بعضًا عن عظيم ما هم فيه وسببه، قالوا: إنا كنا قبل في الدنيا- ونحن بين أهلينا- خائفين ربنا، مشفقين من عذابه وعقابه يوم القيامة. فمنَّ الله علينا بالهداية والتوفيق، ووقانا عذاب سموم جهنم، وهو نارها وحرارتها. إنا كنا من قبلُ نضرع إليه وحده لا نشرك معه غيره أن يقينا عذاب السَّموم ويوصلنا إلى النعيم، فاستجاب لنا وأعطانا سؤالنا، إنه هو البَرُّ الرحيم. فمن بِره ورحمته إيانا أنالنا رضاه والجنة، ووقانا مِن سخطه والنار.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت 26{ قَالُوْٓا اِنَّا کُنَّا قَبْلُ فِیْٓ اَہْلِنَا مُشْفِقِیْنَ۔ } ”وہ کہیں گے کہ ہم پہلے اپنے اہل و عیال میں ڈرتے ہوئے رہتے تھے۔“ دنیا میں اپنے اہل و عیال اور عزیز و اقارب کے درمیان معمول کی زندگی بسر کرتے ہوئے ہمیں ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا تھا کہ نہ معلوم ہمارے اعمال اللہ تعالیٰ کے ہاں شرفِ قبولیت حاصل کر بھی پائیں گے یا نہیں۔ نہ معلوم نیک اعمال کی قبولیت کے لیے مطلوبہ معیار کا اخلاص ہمارے دلوں میں ہے بھی یا نہیں۔ کہیں ہم سے کوئی ایسی غلطی سرزد نہ ہوجائے جو ہماری ساری محنت کو بھی اکارت کر دے۔ ایسے اندیشے اور خدشے ہر لمحہ ہمیں دامن گیر رہتے تھے۔