تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: التوبة ٩٥:٩

٩٥:٩
سيحلفون بالله لكم اذا انقلبتم اليهم لتعرضوا عنهم فاعرضوا عنهم انهم رجس وماواهم جهنم جزاء بما كانوا يكسبون ٩٥
سَيَحْلِفُونَ بِٱللَّهِ لَكُمْ إِذَا ٱنقَلَبْتُمْ إِلَيْهِمْ لِتُعْرِضُوا۟ عَنْهُمْ ۖ فَأَعْرِضُوا۟ عَنْهُمْ ۖ إِنَّهُمْ رِجْسٌۭ ۖ وَمَأْوَىٰهُمْ جَهَنَّمُ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ ٩٥
سَيَحۡلِفُونَ
بِٱللَّهِ
لَكُمۡ
إِذَا
ٱنقَلَبۡتُمۡ
إِلَيۡهِمۡ
لِتُعۡرِضُواْ
عَنۡهُمۡۖ
فَأَعۡرِضُواْ
عَنۡهُمۡۖ
إِنَّهُمۡ
رِجۡسٞۖ
وَمَأۡوَىٰهُمۡ
جَهَنَّمُ
جَزَآءَۢ
بِمَا
كَانُواْ
يَكۡسِبُونَ
٩٥
سيحلف لكم المنافقون بالله -كاذبين معتذرين- إذا رجعتم إليهم من الغزو; لتتركوهم دون مساءلة، فاجتنبوهم وأعرضوا عنهم احتقارًا لهم، إنهم خبثاء البواطن، ومكانهم الذي يأوون إليه في الآخرة نار جهنم; جزاء بما كانوا يكسبون من الآثام والخطايا.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 9:94إلى 9:96
فاسق اور چوہے کی مماثلت ٭٭

اللہ تعالیٰ نے منافقین سے یہ معلوم کرا دیا کہ جب تم مدینہ واپس ہو گے تو تمہارے سامنے اپنے عذرات پیش کریں گے۔ لیکن تم ان سے کہہ دو کہ عذارت باطلہ پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہم تمہاری بات کو کبھی سچ نہ مانیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے احوال معلوم کرا دئیے ہیں۔

عنقریب اللہ پاک تمہارے اعمال دنیا میں لوگوں کے سامنے ظاہر فرما دے گا اور تمہیں تمہارے اچھے برے سارے اعمال کی خبر دے دے گا اور اعمال کا نتیجہ بھی دیکھنا پڑے گا۔ پھر ان سے متعلق مزید خبر دی گئی کہ وہ قسمیں کھا کھا کر بیان کریں گے تاکہ تم ان سے درگزر کر جاؤ اور چشم پوشی کر لو۔ یہ اس وقت ہو گا جب تم مدینہ واپس ہو جاؤ گے۔ لیکن تم ہرگز ان کی تصدیق نہ کرنا اور ان سے اظہار حقارت کے لئے اعراض کر جاؤ۔ ان میں نفس کی گندگی ہے، ان کے باطن اور ان کے اعتقاد نجس ہیں، آخرت میں ان کا ٹھکانا دوزخ ہے یہ ان کے اعمال یعنی خطاکاریوں کا صحیح بدلہ ہے۔ اور یہ بھی بتلا دیا تم ان سے قسمیں کھانے کے سبب راضی ہو بھی جاؤ تو اللہ تعالیٰ تو ان لوگوں سے راضی نہ ہو گا جو اللہ کی اطاعت اور رسولوں کی فرمابرداری سے باہر ہو گئے ہیں۔ وہ لوگ فاسق ہیں اور فسق کے لغوی معنی باہر نکلنے کے ہیں۔ کہتے ہیں کہ «الفارۃ فویسقۃ» یعنی چوہا خرابیاں اور فساد پیدا کرنے کے لئے ہی اپنے بل سے نکلتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے «فسقت الرطبۃ» یعنی ڈالیوں سے کجھور کے خوشے نکل آۓ۔

صفحہ نمبر3565