تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: التوبة ٩٤:٩

٩٤:٩
يعتذرون اليكم اذا رجعتم اليهم قل لا تعتذروا لن نومن لكم قد نبانا الله من اخباركم وسيرى الله عملكم ورسوله ثم تردون الى عالم الغيب والشهادة فينبيكم بما كنتم تعملون ٩٤
يَعْتَذِرُونَ إِلَيْكُمْ إِذَا رَجَعْتُمْ إِلَيْهِمْ ۚ قُل لَّا تَعْتَذِرُوا۟ لَن نُّؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّأَنَا ٱللَّهُ مِنْ أَخْبَارِكُمْ ۚ وَسَيَرَى ٱللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُۥ ثُمَّ تُرَدُّونَ إِلَىٰ عَـٰلِمِ ٱلْغَيْبِ وَٱلشَّهَـٰدَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ٩٤
يَعۡتَذِرُونَ
إِلَيۡكُمۡ
إِذَا
رَجَعۡتُمۡ
إِلَيۡهِمۡۚ
قُل
لَّا
تَعۡتَذِرُواْ
لَن
نُّؤۡمِنَ
لَكُمۡ
قَدۡ
نَبَّأَنَا
ٱللَّهُ
مِنۡ
أَخۡبَارِكُمۡۚ
وَسَيَرَى
ٱللَّهُ
عَمَلَكُمۡ
وَرَسُولُهُۥ
ثُمَّ
تُرَدُّونَ
إِلَىٰ
عَٰلِمِ
ٱلۡغَيۡبِ
وَٱلشَّهَٰدَةِ
فَيُنَبِّئُكُم
بِمَا
كُنتُمۡ
تَعۡمَلُونَ
٩٤
يعتذر إليكم -أيها المؤمنون- هؤلاء المتخلفون عن جهاد المشركين بالأكاذيب عندما تعودون مِن جهادكم من غزوة (تبوك) ، قل لهم -أيها الرسول-: لا تعتذروا لن نصدقكم فيما تقولون، قد نبأنا الله من أمركم ما حقق لدينا كذبكم، وسيرى الله عملكم ورسوله، إن كنتم تتوبون من نفاقكم، أو تقيمون عليه، وسيُظهر للناس أعمالكم في الدنيا، ثم ترجعون بعد مماتكم إلى الذي لا تخفى عليه بواطن أموركم وظواهرها، فيخبركم بأعمالكم كلها، ويجازيكم عليها.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 9:94إلى 9:96
فاسق اور چوہے کی مماثلت ٭٭

اللہ تعالیٰ نے منافقین سے یہ معلوم کرا دیا کہ جب تم مدینہ واپس ہو گے تو تمہارے سامنے اپنے عذرات پیش کریں گے۔ لیکن تم ان سے کہہ دو کہ عذارت باطلہ پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہم تمہاری بات کو کبھی سچ نہ مانیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے احوال معلوم کرا دئیے ہیں۔

عنقریب اللہ پاک تمہارے اعمال دنیا میں لوگوں کے سامنے ظاہر فرما دے گا اور تمہیں تمہارے اچھے برے سارے اعمال کی خبر دے دے گا اور اعمال کا نتیجہ بھی دیکھنا پڑے گا۔ پھر ان سے متعلق مزید خبر دی گئی کہ وہ قسمیں کھا کھا کر بیان کریں گے تاکہ تم ان سے درگزر کر جاؤ اور چشم پوشی کر لو۔ یہ اس وقت ہو گا جب تم مدینہ واپس ہو جاؤ گے۔ لیکن تم ہرگز ان کی تصدیق نہ کرنا اور ان سے اظہار حقارت کے لئے اعراض کر جاؤ۔ ان میں نفس کی گندگی ہے، ان کے باطن اور ان کے اعتقاد نجس ہیں، آخرت میں ان کا ٹھکانا دوزخ ہے یہ ان کے اعمال یعنی خطاکاریوں کا صحیح بدلہ ہے۔ اور یہ بھی بتلا دیا تم ان سے قسمیں کھانے کے سبب راضی ہو بھی جاؤ تو اللہ تعالیٰ تو ان لوگوں سے راضی نہ ہو گا جو اللہ کی اطاعت اور رسولوں کی فرمابرداری سے باہر ہو گئے ہیں۔ وہ لوگ فاسق ہیں اور فسق کے لغوی معنی باہر نکلنے کے ہیں۔ کہتے ہیں کہ «الفارۃ فویسقۃ» یعنی چوہا خرابیاں اور فساد پیدا کرنے کے لئے ہی اپنے بل سے نکلتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے «فسقت الرطبۃ» یعنی ڈالیوں سے کجھور کے خوشے نکل آۓ۔

صفحہ نمبر3565