تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: التوبة ٦٣:٩

٦٣:٩
الم يعلموا انه من يحادد الله ورسوله فان له نار جهنم خالدا فيها ذالك الخزي العظيم ٦٣
أَلَمْ يَعْلَمُوٓا۟ أَنَّهُۥ مَن يُحَادِدِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ فَأَنَّ لَهُۥ نَارَ جَهَنَّمَ خَـٰلِدًۭا فِيهَا ۚ ذَٰلِكَ ٱلْخِزْىُ ٱلْعَظِيمُ ٦٣
أَلَمۡ
يَعۡلَمُوٓاْ
أَنَّهُۥ
مَن
يُحَادِدِ
ٱللَّهَ
وَرَسُولَهُۥ
فَأَنَّ
لَهُۥ
نَارَ
جَهَنَّمَ
خَٰلِدٗا
فِيهَاۚ
ذَٰلِكَ
ٱلۡخِزۡيُ
ٱلۡعَظِيمُ
٦٣
ألم يعلم هؤلاء المنافقون أن مصير الذين يحاربون الله ورسوله نارُ جهنم لهم العذاب الدائم فيها؟ ذلك المصير هو الهوان والذل العظيم، ومن المحاربة أذِيَّة رسول الله صلى الله عليه وسلم بسبه والقدح فيه، عياذًا بالله من ذلك.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 9:62إلى 9:63
نادان اور کوڑ مغز کون؟ ٭٭

واقعہ یہ ہوا تھا کہ منافقوں میں سے ایک شخص کہہ رہا تھا کہ ہمارے سردار اور رئیس بڑے ہی عقلمند دانا اور تجربہ کار ہیں اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں حق ہوتیں تو یہ کیا ایسے بیوقوف تھے کہ انہیں نہ مانتے؟

یہ بات ایک سچے مسلمان صحابی رضی اللہ عنہ نے سن لی اور اس نے کہا: ”واللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سب باتیں بالکل سچ ہیں اور نہ ماننے والوں کی بیوقوفی اور کودن پنے میں کوئی شک نہیں۔‏“ جب یہ صحابی رضی اللہ عنہ دربار نبوت میں حاضر ہوئے تو یہ واقعہ بیان کیا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلوا بھیجا لیکن وہ سخت قسمیں کھا کھا کر کہنے لگا کہ میں نے تو یہ بات کہی ہی نہیں یہ تو مجھ پر تہمت باندھتا ہے۔ اس صحابی رضی اللہ عنہ نے دعا کی کہ پروردگار! تو سچے کو سچا اور جھوٹے کو جھوٹا کر دکھا۔ اس پر یہ آیت شریف نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:16922:ضعیف و مرسل] ‏

کیا ان کو یہ بات معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف ابدی جہنمی ہیں ذلت و رسوائی عذاب دوزخ بھگتنے والے ہیں اس سے بڑھ کر شومی طالع، اس سے زیادہ رسوائی اس سے بڑھ کر شقاوت اور کیا ہو گی؟

صفحہ نمبر3509