تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: التوبة ١٤:٩

١٤:٩
قاتلوهم يعذبهم الله بايديكم ويخزهم وينصركم عليهم ويشف صدور قوم مومنين ١٤
قَـٰتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ ٱللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍۢ مُّؤْمِنِينَ ١٤
قَٰتِلُوهُمۡ
يُعَذِّبۡهُمُ
ٱللَّهُ
بِأَيۡدِيكُمۡ
وَيُخۡزِهِمۡ
وَيَنصُرۡكُمۡ
عَلَيۡهِمۡ
وَيَشۡفِ
صُدُورَ
قَوۡمٖ
مُّؤۡمِنِينَ
١٤
يا معشر المؤمنين قاتلوا أعداء الله يعذبهم عز وجل بأيديكم، ويذلهم بالهزيمة والخزي، وينصركم عليهم، ويُعْلِ كلمته، ويشف بهزيمتهم صدوركم التي طالما لحق بها الحزن والغم من كيد هؤلاء المشركين، ويُذْهِب عن قلوب المؤمنين الغيظ. ومن تاب من هؤلاء المعاندين فإن الله يتوب على من يشاء. والله عليم بصدق توبة التائب، حكيم في تدبيره وصنعه ووَضْع تشريعاته لعباده.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 9:14إلى 9:16
مسلمان بھی آزمائیں جائیں گے ٭٭

یہ نا ممکن ہے کہ امتحان بغیر مسلمان بھی چھوڑ دیئے جائیں سچے اور جھوٹے مسلمان کو ظاہر کر دینا ضروری ہے۔ «وَلِيجَةً» کے معنی بھیدی اور دخل دینے والے کے ہیں۔ پس سچے وہ ہیں جو جہاد میں آگے بڑھ کر حصہ لیں اور ظاہر باطن میں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خیر خواہی اور حمایت کریں۔

ایک قسم کا بیان دوسری قسم کو ظاہر کر دیتا تھا اس لیے دوسری قسم کے لوگوں پر بیان چھوڑ دیا ایسی عبارتیں شاعروں کے شعروں میں بھی ہیں۔ اور جگہ قرآن کریم ہے کہ کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ وہ صرف یہ کہنے سے چھوڑ دیئے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش ہو گی ہی نہیں حالانکہ اگلے مومنوں کی بھی ہم نے آزمائش کی یاد رکھو اللہ تعالیٰ سچے اور جھوٹوں کو ضرور الگ کر دے گا۔ [29-العنكبوت:3،2] ‏

اور آیت میں اسی مضمون کو «أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ» [3-آل عمران:142] ‏ کے لفظوں سے بیان فرمایا ہے۔

اور آیت میں ہے «مَّا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ» [3-آل عمران:179] ‏ اللہ ایسا نہیں کہ تم مومنوں کو تمہاری حالت پر ہی چھوڑ دے اور امتحان کر کے یہ نہ معلوم کر لے کہ خبیث کون ہے اور طیب کون ہے؟

پس جہاد کے مشروع کرنے میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ کھرے کھوٹے کی تمیز ہو جاتی ہے۔ گو اللہ تعالیٰ ہر چیز سے واقف ہے جو ہو گا وہ بھی اسے معلوم ہے اور جو نہیں ہوا وہ جب ہو گا تب کس طرح ہو گا یہ بھی وہ جانتا ہے چیز کے ہونے سے پہلے ہی اسے اس کا علم حاصل ہے اور ہر چیز کی ہر حالت سے وہ واقف ہے لیکن وہ چاہتا ہے کہ دنیا پر بھی کھرا کھوٹا، سچا جھوٹا ظاہر کر دے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں نہ اس کے سوا کوئی پروردگار ہے نہ اس کی قضاء و قدر اور ارادے کو کوئی بدل سکتا ہے۔

صفحہ نمبر3409