تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: التوبة ١١٧:٩

١١٧:٩
لقد تاب الله على النبي والمهاجرين والانصار الذين اتبعوه في ساعة العسرة من بعد ما كاد يزيغ قلوب فريق منهم ثم تاب عليهم انه بهم رءوف رحيم ١١٧
لَّقَد تَّابَ ٱللَّهُ عَلَى ٱلنَّبِىِّ وَٱلْمُهَـٰجِرِينَ وَٱلْأَنصَارِ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُ فِى سَاعَةِ ٱلْعُسْرَةِ مِنۢ بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍۢ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ ۚ إِنَّهُۥ بِهِمْ رَءُوفٌۭ رَّحِيمٌۭ ١١٧
لَّقَد
تَّابَ
ٱللَّهُ
عَلَى
ٱلنَّبِيِّ
وَٱلۡمُهَٰجِرِينَ
وَٱلۡأَنصَارِ
ٱلَّذِينَ
ٱتَّبَعُوهُ
فِي
سَاعَةِ
ٱلۡعُسۡرَةِ
مِنۢ
بَعۡدِ
مَا
كَادَ
يَزِيغُ
قُلُوبُ
فَرِيقٖ
مِّنۡهُمۡ
ثُمَّ
تَابَ
عَلَيۡهِمۡۚ
إِنَّهُۥ
بِهِمۡ
رَءُوفٞ
رَّحِيمٞ
١١٧
لقد وفَّق الله نبيه محمدا صلى الله عليه وسلم إلى الإنابة إليه وطاعته، وتاب الله على المهاجرين الذين هجروا ديارهم وعشيرتهم إلى دار الإسلام، وتاب على أنصار رسول الله صلى الله عليه وسلم الذين خرجوا معه لقتال الأعداء في غزوة (تبوك) في حرٍّ شديد، وضيق من الزاد والظَّهْر، لقد تاب الله عليهم من بعد ما كاد يَميل قلوب بعضهم عن الحق، فيميلون إلى الدَّعة والسكون، لكن الله ثبتهم وقوَّاهم وتاب عليهم، إنه بهم رؤوف رحيم. ومن رحمته بهم أنْ مَنَّ عليهم بالتوبة، وقَبِلَها منهم، وثبَّتهم عليها.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
باب

مجاہدرحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت جنگ تبوک کے بارے میں اتری ہے اس جنگ میں جانے کے وقت سال بھی قحط کا تھا، گرمیوں کا موسم تھا، کھانے پینے کی کمی تھی، راستوں میں پانی نہ تھا۔ شام کے ملک تک کا دور دراز کا سفر تھا۔ سامان رسد کی اتنی کمی کہ دو دو آدمیوں میں ایک ایک کھجور بٹتی تھی۔ پھر تو یہ ہو گیا تھا کہ ایک کھجور ایک جماعت کو ملتی یہ چوس کر اسے دیتا وہ اور کو اور ایک ایک چوس کر پانی پی لیتا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت ان پر لازم کر دی اور انہیں واپس لایا۔ عمر رضی اللہ عنہ سے جب اس سختی کا سوال ہوا تو آپ نے فرمایا۔ سخت گرمیوں کے زمانے میں ہم نگلنے کو تھے، ایک منزل میں تو پیاس کے مارے ہماری گردنیں ٹوٹنے لگیں یہاں تک کہ لوگ اپنے اونٹوں کو ذبح کر کے اس کی اوجھڑی نچوڑ کر اس پانی کو پیتے اور پھر اسے اپنے کلیجے سے لگا لیتے اس وقت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اور عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعاؤں کو ہمیشہ ہی قبول فرمایا ہے۔ اب بھی دعا کیجئے کہ اللہ قبول فرمائے آپ نے ہاتھ اٹھا کر دعا شروع کی اس وقت آسمان پر ابر چھا گیا اور برسنے لگا اور خوب برسا جس کے پاس جتنے برتن تھے سب بھر لیے پھر بارش رک گئی اب جو ہم دیکھتے ہیں تو ہمارے لشکر کے احاطے سے باہر ایک قطرہ بھی کہیں نہیں برسا تھا۔ پس اس جہاد میں جنہوں نے روپے پیسے سے، سواری سے، خوراک سے، سامان رسد اور ہتھیار سے پانی وغیرہ سے غرض کسی طرح بھی مومنوں کی مدد کی تھی، ان کی فضیلت و برتری بیان ہو رہی ہے۔ یہی وہ وقت تھا کہ بعض کے دل پھر جانے کے قریب ہو گئے تھے۔ مشقت شدت اور بھوک پیاس نے دلوں کو ہلا دیا تھا، مسلمان جھنجھوڑ دیئے گئے تھے لیکن رب نے انہیں سنبھال لیا اور اپنی طرف جھکا لیا اور ثابت قدمی عطا فرما کر خود بھی ان پر مہربان ہو گیا، اللہ تعالیٰ جیسی رافعت و رحمت اور کس کی ہے؟ وہ ان پر خوب ہی رحمت و کرم رکھتا ہے۔

صفحہ نمبر3615