تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الشورى ٤٧:٤٢

٤٧:٤٢
استجيبوا لربكم من قبل ان ياتي يوم لا مرد له من الله ما لكم من ملجا يوميذ وما لكم من نكير ٤٧
ٱسْتَجِيبُوا۟ لِرَبِّكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِىَ يَوْمٌۭ لَّا مَرَدَّ لَهُۥ مِنَ ٱللَّهِ ۚ مَا لَكُم مِّن مَّلْجَإٍۢ يَوْمَئِذٍۢ وَمَا لَكُم مِّن نَّكِيرٍۢ ٤٧
ٱسۡتَجِيبُواْ
لِرَبِّكُم
مِّن
قَبۡلِ
أَن
يَأۡتِيَ
يَوۡمٞ
لَّا
مَرَدَّ
لَهُۥ
مِنَ
ٱللَّهِۚ
مَا
لَكُم
مِّن
مَّلۡجَإٖ
يَوۡمَئِذٖ
وَمَا
لَكُم
مِّن
نَّكِيرٖ
٤٧
استجيبوا لربكم -أيها الكافرون- بالإيمان والطاعة من قبل أن يأتي يوم القيامة، الذي لا يمكن رده، ما لكم من ملجأ يومئذ ينجيكم من العذاب، ولا مكان يستركم، وتتنكرون فيه. وفي الآية دليل على ذم التسويف، وفيها الأمر بالمبادرة إلى كل عمل صالح يعرض للعبد، فإن للتأخير آفات وموانع.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت نمبر 47

اس کے بعد انسان کے عمومی مزاج کو ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ انسان جو دعوت اسلامی اور سچائی کا مقابلہ کرتا ہے اور رسول برحق سے عناد رکھتا ہے اور اس طرح اپنے آپ کو اذیت و عذاب کا مستحق گردانتا ہے تو اس کی حالت یہ ہے کہ جب کسی اذیت میں یہ مبتلا ہوجاتا ہے تو اسے برداشت نہیں کرسکتا۔ اس کی قوت برداشت جواب دے دیتی ہے۔ جزع فزع اور آہ و فغاں شروع کردیتا ہے اور اگر اللہ کی کوئی نعمت مل جائے تو ہواؤں پر اڑنے لگتا ہے۔ اور حدود پار کرلیتا ہے جبکہ سختی میں مایوس اور کافر ہوجاتا ہے۔