تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الشعراء ١١٣:٢٦

١١٣:٢٦
ان حسابهم الا على ربي لو تشعرون ١١٣
إِنْ حِسَابُهُمْ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّى ۖ لَوْ تَشْعُرُونَ ١١٣
إِنۡ
حِسَابُهُمۡ
إِلَّا
عَلَىٰ
رَبِّيۖ
لَوۡ
تَشۡعُرُونَ
١١٣
ما حسابهم للجزاء على أعمالهم وبواطنهم إلا على ربي المطَّلِع على السرائر. لو كنتم تشعرون بذلك لما قلتم هذا الكلام.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 26:111إلى 26:115
ہدایت طبقاتی عصبیت سے پاک ہے ٭٭

قوم نوح نے اللہ کے رسول کو جواب دیا کہ چند سفلے اور چھوٹے لوگوں نے تیری بات مانی ہے۔ ہم سے یہ نہیں ہوسکتا کہ ان رذیلوں کا ساتھ دیں اور تیری مان لیں۔ اس کے جواب میں اللہ کے رسول نے جواب دیا ”یہ میرا فرض نہیں کہ کوئی حق قبول کرنے کو آئے تو میں اس سے اس کی قوم اور پیشہ دریافت کرتا پھروں۔ اندرونی حالات پر اطلاع رکھنا، حساب لینا اللہ کا کام ہے۔ افسوس تمہیں اتنی سمجھ بھی نہیں۔ تمہاری اس چاہت کو پورا کرنا میرے اختیار سے باہر ہے کہ میں ان مسکینوں سے اپنی محفل خالی کرالوں۔ میں تو اللہ کی طرف سے ایک آگاہ کر دینے والا ہوں۔ جو بھی مانے وہ میرا اور جو نہ مانے وہ خود ذمہ دار۔ شریف ہو یا رذیل ہو امیر ہو یا غریب ہو جو میری مانے میرا ہے اور میں اس کا ہوں۔‏“

صفحہ نمبر6242