تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الصافات ١٧٤:٣٧

١٧٤:٣٧
فتول عنهم حتى حين ١٧٤
فَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتَّىٰ حِينٍۢ ١٧٤
فَتَوَلَّ
عَنۡهُمۡ
حَتَّىٰ
حِينٖ
١٧٤
فأعرض -أيها الرسول- عَمَّن عاند، ولم يقبل الحق حتى تنقضي المدة التي أمهلهم فيها، ويأتي أمر الله بعذابهم، وأنظرهم وارتقب ماذا يحل بهم من العذاب بمخالفتك؟ فسوف يرون ما يحل بهم من عذاب الله.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 37:167إلى 37:175

قدیم زمانہ میں عربوں کا حال یہ تھا کہ جب وہ سنتے کہ یہود نے اور دوسری قوموں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا تو وہ پرفخر طور پر کہتے کہ یہ لوگ بہت بد بخت تھے۔ اگر ہمارے پاس رسول آتا تو ہم اس کی قدردانی کرتے اور اس کا ساتھ دیتے۔ مگر جب ان کے اندر اللہ نے ایک رسول بھیجا تو وہ اس کے منکر ہوگئے۔ جس طرح دوسرے لوگ اپنے رسولوں کے منکر ہوئے تھے— ایسا حق آدمی کو خوب دکھائی دیتاہے جس کی زد دوسروں پر پڑتی ہو۔ مگر جس حق کی زد خود آدمی کی اپنی ذات پر پڑے اس سے وہ اس طرح بے خبر ہوجاتاہے جیسے اس کو دیکھنے کےلیے اس کے پاس آنکھ ہی نہیں۔

حق کے داعیوں کی بات کو لوگ نظر انداز کرتے ہیں، وہ بھول جاتے ہیں کہ حق کے داعی اس دنیا میں خدا کے لشکر ہیں۔ حق کے داعیوں کی بات ہر حال میں بلند وبالا ہو کر رہتی ہے، خواہ مخالفت کرنے والے اس کی کتنی ہی زیادہ مخالفت کریں۔