تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

تفسير Tazkir ul Quran: سورة الصف، الآية 8

٨:٦١
يريدون ليطفيوا نور الله بافواههم والله متم نوره ولو كره الكافرون ٨
يُرِيدُونَ لِيُطْفِـُٔوا۟ نُورَ ٱللَّهِ بِأَفْوَٰهِهِمْ وَٱللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِۦ وَلَوْ كَرِهَ ٱلْكَـٰفِرُونَ ٨
يُرِيدُونَﱴ
لِيُطۡفِـُٔواْﱵ
نُورَﱶ
ٱللَّهِﱷ
بِأَفۡوَٰهِهِمۡﱸ
وَٱللَّهُﱹ
مُتِمُّﱺ
نُورِهِۦﱻ
وَلَوۡﱼ
كَرِهَﱽ
ٱلۡكَٰفِرُونَﱾ
٨ﱿ
يريد هؤلاء الظالمون أن يبطلوا الحق الذي بُعِثَ به محمد صلى الله عليه وسلم -وهو القرآن- بأقوالهم الكاذبة، والله مظهر الحق بإتمام دينه ولو كره الجاحدون المكذِّبون.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 61:6إلى 61:9

حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزات اس بات کا ثبوت تھے کہ آپ خدا کے پیغمبر ہیں۔ مگر یہود نے ان معجزات کو جادو کا کرشمہ کہہ کر ان کو نظر انداز کردیا۔ اس طرح قدیم آسمانی کتابوں میں واضح طور پر پیغمبر آخر الزماں کی پیشگی خبر موجود تھی۔ مگر جب آپ آئے تو یہود اور نصاریٰ دونوں نے آپ کا انکار کردیا۔ انسان اتنا ظالم ہے کہ وہ کھلی کھلی حقیقتوں کا اعتراف کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتا۔

اس آیت میں غلبہ سے مراد فکری غلبہ ہے۔ یعنی خدا اور مذہب کے بارے میں جتنے غیر موحدانہ عقائد دنیا میں ہیں ان کو زیر کرکے توحید کے عقیدہ کو غالب فکر کی حیثیت دے دی جائے۔ بقیہ تمام عقائد ہمیشہ کے لیے فکری طور پر مغلوب ہو کر رہ جائیں۔ قرآن میں یہ پیشین گوئی انتہائی ناموافق حالات میں 3 ھ میں نازل ہوئی تھی۔ مگر بعد کو وہ حرف بحرف پوری ہوئی۔