تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الصف ٨:٦١

٨:٦١
يريدون ليطفيوا نور الله بافواههم والله متم نوره ولو كره الكافرون ٨
يُرِيدُونَ لِيُطْفِـُٔوا۟ نُورَ ٱللَّهِ بِأَفْوَٰهِهِمْ وَٱللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِۦ وَلَوْ كَرِهَ ٱلْكَـٰفِرُونَ ٨
يُرِيدُونَ
لِيُطۡفِـُٔواْ
نُورَ
ٱللَّهِ
بِأَفۡوَٰهِهِمۡ
وَٱللَّهُ
مُتِمُّ
نُورِهِۦ
وَلَوۡ
كَرِهَ
ٱلۡكَٰفِرُونَ
٨
يريد هؤلاء الظالمون أن يبطلوا الحق الذي بُعِثَ به محمد صلى الله عليه وسلم -وهو القرآن- بأقوالهم الكاذبة، والله مظهر الحق بإتمام دينه ولو كره الجاحدون المكذِّبون.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 61:7إلى 61:9
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا ٭٭

ارشاد ہے کہ ” جو شخص اللہ تعالیٰ پر جھوٹ افترا باندھے اور اس کے شریک و سہیم مقرر کرے اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں۔ “ اگر یہ شخص بےخبر ہوتا جب بھی ایک بات تھی یہاں تو یہ حالت ہے کہ وہ توحید اور اخلاص کی طرف برابر بلایا جا رہا ہے، بھلا ایسے ظالموں کی قسمت میں ہدایت کہاں؟ ان کفار کی چاہت تو یہ ہے کہ حق کو باطل سے رد کر دیں، ان کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے کوئی سورج کی شعاع کو اپنے منہ کی پھونک سے بے نور کرتا ہے، جس طرح اس کے منہ کی پھونک سے سورج کی روشنی کا جاتا رہنا محال ہے۔ اسی طرح یہ بھی محال ہے کہ اللہ کا دین ان کفار سے رد ہو جائے، اللہ تعالیٰ فیصلہ کر چکا ہے کہ وہ اپنے نور کو پورا کر کے ہی رہے گا، کافر برا مانیں تو مانتے رہیں۔ اس کے بعد اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنے دین کی حقانیت کو واضح فرمایا، ان دونوں آیتوں کی پوری تفسیر سورۃ برأت میں گزر چکی ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

صفحہ نمبر9487