تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Tazkir ul Quran التفسير: الصف آية 7

٧:٦١
ومن اظلم ممن افترى على الله الكذب وهو يدعى الى الاسلام والله لا يهدي القوم الظالمين ٧
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ وَهُوَ يُدْعَىٰٓ إِلَى ٱلْإِسْلَـٰمِ ۚ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّـٰلِمِينَ ٧
وَمَنۡﱢ
أَظۡلَمُﱣ
مِمَّنِﱤ
ٱفۡتَرَىٰﱥ
عَلَىﱦ
ٱللَّهِﱧ
ٱلۡكَذِبَﱨ
وَهُوَﱩ
يُدۡعَىٰٓﱪ
إِلَىﱫ
ٱلۡإِسۡلَٰمِۚﱬﱭ
وَٱللَّهُﱮ
لَاﱯ
يَهۡدِيﱰ
ٱلۡقَوۡمَﱱ
ٱلظَّٰلِمِينَﱲ
٧ﱳ
ولا أحد أشد ظلمًا وعدوانًا ممن اختلق على الله الكذب، وجعل له شركاء في عبادته، وهو يُدعى إلى الدخول في الإسلام وإخلاص العبادة لله وحده. والله لا يوفِّق الذين ظلموا أنفسهم بالكفر والشرك، إلى ما فيه فلاحهم.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 61:6إلى 61:9

حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزات اس بات کا ثبوت تھے کہ آپ خدا کے پیغمبر ہیں۔ مگر یہود نے ان معجزات کو جادو کا کرشمہ کہہ کر ان کو نظر انداز کردیا۔ اس طرح قدیم آسمانی کتابوں میں واضح طور پر پیغمبر آخر الزماں کی پیشگی خبر موجود تھی۔ مگر جب آپ آئے تو یہود اور نصاریٰ دونوں نے آپ کا انکار کردیا۔ انسان اتنا ظالم ہے کہ وہ کھلی کھلی حقیقتوں کا اعتراف کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتا۔

اس آیت میں غلبہ سے مراد فکری غلبہ ہے۔ یعنی خدا اور مذہب کے بارے میں جتنے غیر موحدانہ عقائد دنیا میں ہیں ان کو زیر کرکے توحید کے عقیدہ کو غالب فکر کی حیثیت دے دی جائے۔ بقیہ تمام عقائد ہمیشہ کے لیے فکری طور پر مغلوب ہو کر رہ جائیں۔ قرآن میں یہ پیشین گوئی انتہائی ناموافق حالات میں 3 ھ میں نازل ہوئی تھی۔ مگر بعد کو وہ حرف بحرف پوری ہوئی۔