تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

تفسير Tazkir ul Quran: سورة الصف، الآية 10

١٠:٦١
يا ايها الذين امنوا هل ادلكم على تجارة تنجيكم من عذاب اليم ١٠
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَىٰ تِجَـٰرَةٍۢ تُنجِيكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍۢ ١٠
يَٰٓأَيُّهَاﲏ
ٱلَّذِينَﲐ
ءَامَنُواْﲑ
هَلۡﲒ
أَدُلُّكُمۡﲓ
عَلَىٰﲔ
تِجَٰرَةٖﲕ
تُنجِيكُمﲖ
مِّنۡﲗ
عَذَابٍﲘ
أَلِيمٖﲙ
١٠ﲚ
يا أيها الذين صدَّقوا الله ورسوله وعملوا بشرعه، هل أُرشِدكم إلى تجارة عظيمة الشأن تنجيكم من عذاب موجع؟
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 61:10إلى 61:13

تجارت میں آدمی پہلے دیتا ہے، اس کے بعد اس کو واپس ملتا ہے۔ دین کی جدوجہد میں بھی آدمی کو اپنی قوت اور اپنا مال دینا پڑتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ بھی ایک قسم کی تجارت ہے۔ البتہ دنیوی تجارت کا نفع صرف دنیا میں ملتا ہے اور دین کی تجارت کا نفع مزید اضافہ کے ساتھ دنیا میں بھی ملتا ہے اور آخرت میں بھی۔ پھر اسی ’’تجارت‘‘ سے غلبہ کی راہ بھی کھلتی ہے جو موجودہ دنیا میں کسی گروہ کو باعزت زندگی حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔