تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة
٥١:٣٠
ولين ارسلنا ريحا فراوه مصفرا لظلوا من بعده يكفرون ٥١
وَلَئِنْ أَرْسَلْنَا رِيحًۭا فَرَأَوْهُ مُصْفَرًّۭا لَّظَلُّوا۟ مِنۢ بَعْدِهِۦ يَكْفُرُونَ ٥١
وَلَئِنۡ
أَرۡسَلۡنَا
رِيحٗا
فَرَأَوۡهُ
مُصۡفَرّٗا
لَّظَلُّواْ
مِنۢ
بَعۡدِهِۦ
يَكۡفُرُونَ
٥١
ولئن أرسلنا على زروعهم ونباتهم ريحًا مفسدة، فرأوا نباتهم قد فسد بتلك الريح، فصار من بعد خضرته مصفرًا، لمكثوا من بعد رؤيتهم له يكفرون بالله ويجحدون نعمه.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 30:48إلى 30:53

آدمی حق کا راستہ اختیار کرے تو اس کو اکثر سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتاہے، جیسا کہ دور اول میں رسولؐ اور اصحاب رسولؐ کے ساتھ پیش آیا۔مگر ان حالات میں کسی کےلیے مایوس ہونے کا سوال نہیں۔ جو خدا اتنا رحیم ہے کہ جب کھیتی کو پانی كي ضرورت ہوتی ہے تو وہ عالمی نظام کو متحرک کرکے اس کو سیراب کرتا ہے، وہ یقیناً اپنے راستہ پر چلنے والوں کی بھی ضرور مدد فرمائے گا۔ تاہم یہ مدد خدا کے اپنے اندازہ کے مطابق آئے گی۔ اس ليے اگر اس میں دیر ہو تو آدمی کو مایوس اور بد دل نہیں ہونا چاہيے۔

خدا کی بات نہایت واضح اور نہایت مدلل بات ہے۔ مگر خدا کی بات کا مومن وہی بنے گا جو چیزوں کو گہرائی کے ساتھ دیکھے، جو باتوں کو دھیان کے ساتھ سنے۔ جس کے اندر یہ مزاج ہو کہ جو بات سمجھ میں آجائے اس کو مان لے، جس راستہ کا صحیح ہونا معلوم ہو جائے اس پر چلنے لگے۔