تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

تفسير Tazkir ul Quran: سورة الروم، الآية 48

٤٨:٣٠
الله الذي يرسل الرياح فتثير سحابا فيبسطه في السماء كيف يشاء ويجعله كسفا فترى الودق يخرج من خلاله فاذا اصاب به من يشاء من عباده اذا هم يستبشرون ٤٨
ٱللَّهُ ٱلَّذِى يُرْسِلُ ٱلرِّيَـٰحَ فَتُثِيرُ سَحَابًۭا فَيَبْسُطُهُۥ فِى ٱلسَّمَآءِ كَيْفَ يَشَآءُ وَيَجْعَلُهُۥ كِسَفًۭا فَتَرَى ٱلْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَـٰلِهِۦ ۖ فَإِذَآ أَصَابَ بِهِۦ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦٓ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ ٤٨
ٱللَّهُﲡ
ٱلَّذِيﲢ
يُرۡسِلُﲣ
ٱلرِّيَٰحَﲤ
فَتُثِيرُﲥ
سَحَابٗاﲦ
فَيَبۡسُطُهُۥﲧ
فِيﲨ
ٱلسَّمَآءِﲩ
كَيۡفَﲪ
يَشَآءُﲫ
وَيَجۡعَلُهُۥﲬ
كِسَفٗاﲭ
فَتَرَىﲮ
ٱلۡوَدۡقَﲯ
يَخۡرُجُﲰ
مِنۡﲱ
خِلَٰلِهِۦۖﲲﲳ
فَإِذَآﲴ
أَصَابَﲵ
بِهِۦﲶ
مَنﲷ
يَشَآءُﲸ
مِنۡﲹ
عِبَادِهِۦٓﲺ
إِذَاﲻ
هُمۡﲼ
يَسۡتَبۡشِرُونَﲽ
٤٨ﲾ
الله -سبحانه- هو الذي يرسل الرياح فتثير سحابًا مثقلا بالماء، فينشره الله في السماء كيف يشاء، ويجعله قطعًا متفرقة، فترى المطر يخرج من بين السحاب، فإذا ساقه الله إلى عباده إذا هم يستبشرون ويفرحون بأن الله صرف ذلك إليهم.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 30:48إلى 30:53

آدمی حق کا راستہ اختیار کرے تو اس کو اکثر سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتاہے، جیسا کہ دور اول میں رسولؐ اور اصحاب رسولؐ کے ساتھ پیش آیا۔مگر ان حالات میں کسی کےلیے مایوس ہونے کا سوال نہیں۔ جو خدا اتنا رحیم ہے کہ جب کھیتی کو پانی كي ضرورت ہوتی ہے تو وہ عالمی نظام کو متحرک کرکے اس کو سیراب کرتا ہے، وہ یقیناً اپنے راستہ پر چلنے والوں کی بھی ضرور مدد فرمائے گا۔ تاہم یہ مدد خدا کے اپنے اندازہ کے مطابق آئے گی۔ اس ليے اگر اس میں دیر ہو تو آدمی کو مایوس اور بد دل نہیں ہونا چاہيے۔

خدا کی بات نہایت واضح اور نہایت مدلل بات ہے۔ مگر خدا کی بات کا مومن وہی بنے گا جو چیزوں کو گہرائی کے ساتھ دیکھے، جو باتوں کو دھیان کے ساتھ سنے۔ جس کے اندر یہ مزاج ہو کہ جو بات سمجھ میں آجائے اس کو مان لے، جس راستہ کا صحیح ہونا معلوم ہو جائے اس پر چلنے لگے۔