تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الرعد ٤٢:١٣

٤٢:١٣
وقد مكر الذين من قبلهم فلله المكر جميعا يعلم ما تكسب كل نفس وسيعلم الكفار لمن عقبى الدار ٤٢
وَقَدْ مَكَرَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَلِلَّهِ ٱلْمَكْرُ جَمِيعًۭا ۖ يَعْلَمُ مَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍۢ ۗ وَسَيَعْلَمُ ٱلْكُفَّـٰرُ لِمَنْ عُقْبَى ٱلدَّارِ ٤٢
وَقَدۡ
مَكَرَ
ٱلَّذِينَ
مِن
قَبۡلِهِمۡ
فَلِلَّهِ
ٱلۡمَكۡرُ
جَمِيعٗاۖ
يَعۡلَمُ
مَا
تَكۡسِبُ
كُلُّ
نَفۡسٖۗ
وَسَيَعۡلَمُ
ٱلۡكُفَّٰرُ
لِمَنۡ
عُقۡبَى
ٱلدَّارِ
٤٢
ولقد دبَّر الذين من قبلهم المكايد لرسلهم، كما فعل هؤلاء معك، فلله المكر جميعًا، فيبطل مكرهم، ويعيده عليهم بالخيبة والندم، يعلم سبحانه ما تكسب كل نفس من خير أو شر فتجازى عليه. وسيعلم الكفار -إذا قدموا على ربهم- لمن تكون العاقبة المحمودة بعد هذه الدنيا؟ إنها لأتباع الرسل. وفي هذا تهديد ووعيد للكافرين.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
کافروں کے شرمناک کارنامے ٭٭

اگلے کافروں نے بھی اپنے نبیوں کے ساتھ مکر کیا، انہیں نکالنا چاہا، اللہ نے ان کے مکر کا بدلہ لیا۔ انجام کار پرہیزگاروں کا ہی بھلا ہوا۔ اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے کافروں کی کارستانی بیان ہو چکی ہے کہ «وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّـهُ وَاللَّـهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ» [8-الانفال:30] ‏ ” وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قید کرنے یا قتل کرنے یا دیس سے نکال دینے کا مشورہ کر رہے تھے وہ گھات میں تھے اور اللہ ان کی گھات میں تھا۔ بھلا اللہ سے زیادہ اچھی پوشیدہ تدبیر کس کی ہو سکتی ہے؟ “

«وَمَكَرُوا مَكْرًا وَمَكَرْنَا مَكْرًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ أَنَّا دَمَّرْنَاهُمْ وَقَوْمَهُمْ أَجْمَعِينَ فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خَاوِيَةً بِمَا ظَلَمُوا إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِّقَوْمٍ يَعْلَمُونَ» [27-النمل:52-50] ‏ ” ان کے مکر پر ہم نے بھی یہی کیا اور یہ بے خبر رہے۔ دیکھ لے کہ ان کے مکر کا انجام کیا ہوا؟ یہی کہ ہم نے انہیں غارت کر دیا اور ان کی ساری قوم کو برباد کر دیا ان کے ظلم کی شہادت دینے والے ان کی غیر آباد بستیوں کے کھنڈرات ابھی موجود ہیں “۔

ہر ایک کے ہر ایک عمل سے اللہ تعالیٰ باخبر ہے، پوشیدہ عمل دل کے خوف اس پر ظاہر ہیں ہر عامل کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ «الْكُفَّارُ» کی دوسری قرأت «الْكَافِرِ» بھی ہے۔ ان کافروں کو ابھی معلوم ہو جائے گا کہ انجام کار کس کا اچھا رہتا ہے، ان کا یا مسلمانوں کا؟

«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ حق والوں کو ہی غالب رکھا ہے انجام کے اعتبار سے یہی اچھے رہتے ہیں دنیا آخرت انہی کی سنورتی ہے۔

صفحہ نمبر4183