تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

تفسير Tazkir ul Quran: سورة الرعد، الآية 37

٣٧:١٣
وكذالك انزلناه حكما عربيا ولين اتبعت اهواءهم بعد ما جاءك من العلم ما لك من الله من ولي ولا واق ٣٧
وَكَذَٰلِكَ أَنزَلْنَـٰهُ حُكْمًا عَرَبِيًّۭا ۚ وَلَئِنِ ٱتَّبَعْتَ أَهْوَآءَهُم بَعْدَ مَا جَآءَكَ مِنَ ٱلْعِلْمِ مَا لَكَ مِنَ ٱللَّهِ مِن وَلِىٍّۢ وَلَا وَاقٍۢ ٣٧
وَكَذَٰلِكَﱷ
أَنزَلۡنَٰهُﱸ
حُكۡمًاﱹ
عَرَبِيّٗاۚﱺﱻ
وَلَئِنِﱼ
ٱتَّبَعۡتَﱽ
أَهۡوَآءَهُمﱾ
بَعۡدَ مَاﱿﲀ
جَآءَكَﲁ
مِنَﲂ
ٱلۡعِلۡمِﲃ
مَاﲄ
لَكَﲅ
مِنَﲆ
ٱللَّهِﲇ
مِنﲈ
وَلِيّٖﲉ
وَلَاﲊ
وَاقٖﲋ
٣٧ﲌ
وكما أنزلنا الكتب على الأنبياء بلسانهم أنزلنا إليك -أيها الرسول- القرآن بلغة العرب; لتحكم به، ولئن اتبعت أهواء المشركين في عبادة غير الله -بعد الحق الذي جاءك من الله- ليس لك ناصر ينصرك ويمنعك من عذابه.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 13:36إلى 13:37

قرآن آیا تو یہود ونصاریٰ میں دو گروہ ہوگئے۔ ان میں جو لوگ اللہ سے ڈرنے والے تھے اور حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح کی سچی تعلیمات پر قائم تھے، انھوںنے قرآن کو اپنے دل کی آواز سمجھا اور خوش ہوکر اس کو قبول کرلیا۔ مگر جو لوگ عصبیت اور گروہ بندی کو دین سمجھے ہوئے تھے وہ اپنے مانوس دائرہ سے باہر آنے والی سچائی کو پہچان نہ سکے اور اس کے مخالف بن کر کھڑے ہوگئے اللہ سے ان کی بے خوفی نے دعوتِ حق کی مخالفت میں بھی ان کو بے خوف بنا دیا۔

جو شخص عصبیت اور گروہ بندی کی بنا پر سچائی کا مخالف بنتا ہے وہ دراصل خدا کو چھوڑ کر اپنی خواہشات پر چلتا ہے۔ ایسے لوگوں کی رعایت سے دعوت حق میں کوئی تبدیلی کرنا داعی کے لیے جائز نہیں۔ داعی کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے قول اور فعل سے بے لاگ حق پر پوری طرح جما رہے۔ ایسے لوگوں کے مقابلہ میں اس کو استقامت کا ثبوت دینا ہے، نہ کہ مصالحت کا ۔

آدمی کے سامنے اس کی قابل فہم زبان میں حق کا علم آجائے۔ اس کے باوجود وہ خواہشات کا پیرو بنا رہے تو یہ بے حد سنگین بات ہے۔ کیونکہ یہ ایسا فعل ہے جو آدمی کو خدا کی مدد سے یکسر محروم کردیتاہے۔