تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Tazkir ul Quran التفسير: الرعد آية 27

٢٧:١٣
ويقول الذين كفروا لولا انزل عليه اية من ربه قل ان الله يضل من يشاء ويهدي اليه من اناب ٢٧
وَيَقُولُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْهِ ءَايَةٌۭ مِّن رَّبِّهِۦ ۗ قُلْ إِنَّ ٱللَّهَ يُضِلُّ مَن يَشَآءُ وَيَهْدِىٓ إِلَيْهِ مَنْ أَنَابَ ٢٧
وَيَقُولُﳁ
ٱلَّذِينَﳂ
كَفَرُواْﳃ
لَوۡلَآﳄ
أُنزِلَﳅ
عَلَيۡهِﳆ
ءَايَةٞﳇ
مِّنﳈ
رَّبِّهِۦۚﳉﳊ
قُلۡﳋ
إِنَّﳌ
ٱللَّهَﳍ
يُضِلُّﳎ
مَنﳏ
يَشَآءُﳐ
وَيَهۡدِيٓﳑ
إِلَيۡهِﳒ
مَنۡﳓ
أَنَابَﳔ
٢٧ﳕ
ويقول الكفار عنادًا: هلا أُنزل على محمد معجزة محسوسة كمعجزة موسى وعيسى. قل لهم: إن الله يضل مَن يشاء من المعاندين عن الهداية ولا تنفعه المعجزات، ويهدي إلى دينه الحق مَن رجع إليه وطلب رضوانه.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 13:27إلى 13:29

حق کے داعی کو نہ ماننے کی وجہ عام طورپر یہ ہوتی ہے کہ لوگوں کو داعی کے گرد محسوس قسم کے کرشمے نظر نہیں آتے۔ مگر یہ عین اسی مقام پر ناکام ہونا ہے جہاں آدمی کو کامیابی کاثبوت دینا چاہیے۔ خدا یہ چاہتاہے کہ آدمی حق کو اس کے مجرد روپ میں پہچانے اور اپنے آپ کو اس کے حوالے کردے۔ اب جو شخص اصرا رکرے کہ وہ محسوس کرشموں کی دلیل کے بغیر نہیں مانے گا، اس کا انجام اس دنیا میں یہی ہوسکتاہے کہ خدا کے قانون کے مطابق کبھی اس کو حق نہ ملے۔ وہ ہمیشہ کے لیے ہدایت سے محروم ہوجائے۔

یہ دنیا دار الامتحان ہے۔ یہاں آدمی صرف ’’یاد‘‘ کی سطح پر خدا کو پاسکتاہے۔ وہ اس کو ’’مشاہدہ‘‘ کی سطح پر نہیں پاسکتا۔ جو لوگ اس خدائی منصوبہ پر راضی ہوں گے وہ خدا کو پائیںگے۔ اور جو لوگ اس پر راضی نہ ہوں وہ خدا کو پانے سے اسی طرح محروم رہیں گے جس طرح ننگی آنکھ سے سورج کو دیکھنے پر اصرار کرنے والا سورج کو دیکھنے سے۔

اس دنیا میں کامیابی صرف اس شخص کے لیے ہے جو خدا کے منصوبہ کومانے اور اس کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھال لے۔ کیوں کہ دنیا کی تخلیق کرنے والا خدا ہے، نہ کہ کوئی انسان۔