تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

تفسير Tazkir ul Quran: سورة النمل، الآية 9

٩:٢٧
يا موسى انه انا الله العزيز الحكيم ٩
يَـٰمُوسَىٰٓ إِنَّهُۥٓ أَنَا ٱللَّهُ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ ٩
يَٰمُوسَىٰٓﲕ
إِنَّهُۥٓﲖ
أَنَاﲗ
ٱللَّهُﲘ
ٱلۡعَزِيزُﲙ
ٱلۡحَكِيمُﲚ
٩ﲛ
فلما جاء موسى النارَ ناداه الله وأخبره أن هذا مكانٌ قدَّسه الله وباركه فجعله موضعًا لتكليم موسى وإرساله، وأن الله بارك مَن في النار ومَن حولها مِنَ الملائكة، وتنزيهًا لله رب الخلائق عما لا يليق به. يا موسى إنه أنا الله المستحق للعبادة وحدي، العزيز الغالب في انتقامي من أعدائي، الحكيم في تدبير خلقي. وألق عصاك فألقاها فصارت حية، فلما رآها تتحرك في خفة تَحَرُّكَ الحية السريعة ولَّى هاربًا ولم يرجع إليها، فطمأنه الله بقوله: يا موسى لا تَخَفْ، إني لا يخاف لديَّ من أرسلتهم برسالتي، لكن مَن تجاوز الحدَّ بذنب، ثم تاب فبدَّل حُسْن التوبة بعد قبح الذنب، فإني غفور له رحيم به، فلا ييئس أحدٌ من رحمة الله ومغفرته. وأدخل يدك في جيبك تخرج بيضاء كالثلج من غير بَرَص في جملة تسع معجزات، وهي مع اليد: العصا، والسنون، ونقص الثمرات، والطوفان، والجراد، والقُمَّل، والضفادع، والدم؛ لتأييدك في رسالتك إلى فرعون وقومه، إنهم كانوا قومًا خارجين عن أمر الله كافرين به.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 27:9إلى 27:14

حضرت موسیٰ پہاڑ پر آگ کے ليے گئے تھے۔ مگر وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ وہ پیغمبری کے ليے بلائے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جب اپنے کسی بندے کو خصوصی عطیہ دیتاہے تو اچانک اور غیر متوقع طورپر دیتاہے تاکہ وہ اس کو براہِ راست اللہ کی طرف سے سمجھے اور اس کے اندر زیادہ سے زیادہ شکر کا جذبہ پیدا ہو۔

حضرت موسیٰ کی قوم (بنی اسرائیل) اگرچہ اس وقت کے لحاظ سے ایک مسلم قوم تھی۔ مگر اب وہ بالکل بے جان ہوچکی تھی۔ دوسری طرف انھیں فرعون جیسے جابر حکمراں کے سامنے توحید کی دعوت پیش کرنا تھا۔ اس ليے اللہ تعالیٰ نے آغاز ہی میں آپ کو عصا کا معجزہ عطا فرمادیا۔ یہ عصا حضرت موسیٰ کے ليے ایک مستقل خدائی طاقت تھا۔ اس کے ذریعے سے فرعون کے مقابلہ میں 9 معجزات ظاہر ہوئے۔ بنی اسرائیل کے ليے ظاہر ہونے والے معجزات ان کے علاوہ تھے۔حضرت موسیٰ کے معجزات نے آخری حد تک آپ کی صداقت ثابت کردی تھی۔ اس کے باوجود فرعون اور اس کے ساتھیوں نے آپ کا اعتراف نہیں کیا۔ اس کی وجہ ان کا ظلم اور علو تھا۔ فرعون اور اس کے ساتھی اپنی آزادی پر قید لگانے کے ليے تیار نہ تھے۔ مزید یہ کہ وہ جانتے تھے کہ موسیٰ کی بات ماننا اپنی بڑائی کی نفی کرنا ہے۔ اور کون ہے جو اپنی بڑائی کی نفی کی قیمت پر سچائی کو مانے۔