تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: النمل ٦٨:٢٧

٦٨:٢٧
لقد وعدنا هاذا نحن واباونا من قبل ان هاذا الا اساطير الاولين ٦٨
لَقَدْ وُعِدْنَا هَـٰذَا نَحْنُ وَءَابَآؤُنَا مِن قَبْلُ إِنْ هَـٰذَآ إِلَّآ أَسَـٰطِيرُ ٱلْأَوَّلِينَ ٦٨
لَقَدۡ
وُعِدۡنَا
هَٰذَا
نَحۡنُ
وَءَابَآؤُنَا
مِن
قَبۡلُ
إِنۡ
هَٰذَآ
إِلَّآ
أَسَٰطِيرُ
ٱلۡأَوَّلِينَ
٦٨
لقد وُعدنا هذا البعث نحن وآباؤنا مِن قبل، فلم نر لذلك حقيقة ولم نؤمن به، ما هذا الوعد إلا مما سطَّره الأولون من الأكاذيب في كتبهم وافتروه.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 27:67إلى 27:70
حیات ثانی کے منکر ٭٭

یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ منکرین قیامت کی سمجھ میں اب تک بھی نہیں آیا کہ مرنے اور سڑ گل جانے کے بعد مٹی اور راکھ ہو جانے کے بعد ہم دوبارہ کیسے پیدا کئے جائیں گے؟ وہ اس پر سخت متعجب ہیں۔ کہتے ہیں مدتوں سے اگلے زمانوں سے یہ سنتے تو چلے آتے ہیں لیکن ہم نے تو کسی کو مرنے کے بعد جیتا ہوا دیکھا نہیں۔ سنی سنائی باتیں ہیں انہوں نے اپنے اگلوں سے انہوں نے اپنے سے پہلے والوں سے سنیں ہم تک پہنچیں لیکن سب عقل سے دور ہیں۔

صفحہ نمبر6488

اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب بتاتا ہے کہ ان سے کہو ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھیں کہ رسولوں کو جھوٹا جاننے والوں اور قیامت کو نہ ماننے والوں کا کیسا دردرناک حسرت ناک انجام ہوا؟ ہلاک اور تباہ ہو گئے اور نبیوں اور ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ نے بچا لیا۔ یہ نبیوں کی سچائی کی دلیل ہے۔

پھر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہیں کہ یہ تجھے اور میرے کلام کو جھٹلاتے ہیں لیکن تو ان پر افسوس اور رنج نہ کر۔ ان کے پیچھے اپنی جان کو روگ نہ لگا۔ یہ تیرے ساتھ جو روباہ بازیاں کر رہے ہیں اور جو چالیں چل رہے ہیں ہمیں خوب علم ہے تو بیفکر رہ۔ تجھے اور تیرے دن کو ہم عروج دینے والے ہیں۔ دنیا جہاں پر تجھے ہم بلندی دیں گے۔

صفحہ نمبر6489