تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: النمل ٦٠:٢٧

٦٠:٢٧
امن خلق السماوات والارض وانزل لكم من السماء ماء فانبتنا به حدايق ذات بهجة ما كان لكم ان تنبتوا شجرها االاه مع الله بل هم قوم يعدلون ٦٠
أَمَّنْ خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَأَنزَلَ لَكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءًۭ فَأَنۢبَتْنَا بِهِۦ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍۢ مَّا كَانَ لَكُمْ أَن تُنۢبِتُوا۟ شَجَرَهَآ ۗ أَءِلَـٰهٌۭ مَّعَ ٱللَّهِ ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌۭ يَعْدِلُونَ ٦٠
أَمَّنۡ
خَلَقَ
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
وَٱلۡأَرۡضَ
وَأَنزَلَ
لَكُم
مِّنَ
ٱلسَّمَآءِ
مَآءٗ
فَأَنۢبَتۡنَا
بِهِۦ
حَدَآئِقَ
ذَاتَ
بَهۡجَةٖ
مَّا
كَانَ
لَكُمۡ
أَن
تُنۢبِتُواْ
شَجَرَهَآۗ
أَءِلَٰهٞ
مَّعَ
ٱللَّهِۚ
بَلۡ
هُمۡ
قَوۡمٞ
يَعۡدِلُونَ
٦٠
واسألهم مَن خلق السموات والأرض، وأنزل لكم من السماء ماء، فأنبت به حدائق ذات منظر حسن؟ ما كان لكم أن تنبتوا شجرها، لولا أن الله أنزل عليكم الماء من السماء. إن عبادته سبحانه هي الحق، وعبادة ما سواه هي الباطل. أمعبود مع الله فعل هذه الأفعال حتى يُعبد معه ويُشرك به؟ بل هؤلاء المشركون قوم ينحرفون عن طريق الحق والإيمان، فيسوون بالله غيره في العبادة والتعظيم.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 27:60إلى 27:61

کائنات ناقابل قیاس حد تک عظیم ہے۔ اس کی عظمت کے آگے وہ الفاظ سراسر ناکافی ہوجاتے ہیں جو گمراہ کن انسان اس کی غیر خدائی توجیہہ کے ليے بولتا رہا ہے۔ خواہ وہ قدیم مشرک انسان کے بت ہوں یا جدید ملحد انسان کے وہ نظریات جو اسباب اور اتفاقات کی اصطلاحوں میں بیان كيے جاتے ہیں۔

بے شمار اجرام کو پیدا کرکے انھیں اتھاہ خلا میں متحرک کرنا، زمین کو نہایت اعلیٰ اہتمام کے ذریعہ زندگی کے موافق بنانا، پانی اور نباتات جیسی نادر چیزوں کو انتہائی افراط کے ساتھ وجود میں لانا، مسلسل حرکت کرتی ہوئی زمین پر کامل سکون کے حالات پیدا کرنا، دریاؤں اور پہاڑوں کے ذریعہ زمین کو جائے رہائش بنانا، پانی کے سطحی تناؤ (surface tension) کے قانون کے ذریعہ کھاری پانی اور میٹھے پانی کو ایک دوسرے سے الگ رکھنا، یہ اور اس طرح کے دوسرے واقعات اس سے زیادہ عظیم ہیں کہ کوئی بت انھیں وقوع میںلائے یا کوئی اندھا طبیعی قانون ان کو وجود دے سکے۔

حقیقت یہ ہے کہ ایک اللہ کے سوا دوسری بنیادوں پر کائنات کی توجیہ کرنا جھوٹی توجیہ کو توجیہ کے قائم مقام بناناہے۔ یہ انحراف ہے، نہ کہ فی الواقع کوئی توجیہ۔