تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Tazkir ul Quran التفسير: النمل آية 59

٥٩:٢٧
قل الحمد لله وسلام على عباده الذين اصطفى الله خير اما يشركون ٥٩
قُلِ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ وَسَلَـٰمٌ عَلَىٰ عِبَادِهِ ٱلَّذِينَ ٱصْطَفَىٰٓ ۗ ءَآللَّهُ خَيْرٌ أَمَّا يُشْرِكُونَ ٥٩
قُلِﱣ
ٱلۡحَمۡدُﱤ
لِلَّهِﱥ
وَسَلَٰمٌﱦ
عَلَىٰﱧ
عِبَادِهِﱨ
ٱلَّذِينَﱩ
ٱصۡطَفَىٰٓۗﱪﱫ
ءَآللَّهُﱬ
خَيۡرٌﱭ
أَمَّاﱮ
يُشۡرِكُونَﱯ
٥٩ﱰ
قل -أيها الرسول-: الثناء والشكر لله، وسلام منه، وأَمَنَةٌ على عباده الذين تخيرهم لرسالته، ثم اسأل مشركي قومك هل الله الذي يملك النفع والضر خير أو الذي يشركون من دونه، ممن لا يملك لنفسه ولا لغيره نفعًا ولا ضرًا؟
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 27:54إلى 27:59

قوم لوط اپنی لذتیت میں امرد پرستی (pederasty) کی حد تک پہنچ گئی تھی۔ حضرت لوط نے قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا کہ خدا کے بندو، تم کو آنکھ دی گئی ہے کہ دیکھو اور بھلے برُے کی تمیز دی گئی ہے کہ پہچانو۔ پھر کیسے تم وہ کام کرتے ہو جو کھلی ہوئی بے حیائی کا کام ہے۔

قوم کے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا۔ وہ پیغمبر کی بات کو دلیل سے رد نہیں کرسکتے تھے۔ اس ليے وہ پیغمبر کے خلاف جارحیت پر آمادہ ہوگئے۔مگر جب یہ نوبت آجائے تو پھر بلا تاخیر خدا کا فیصلہ آجاتاہے۔ چنانچہ خدا نے آتش فشانی مادہ برسا کر انھیں ہلاک کردیا۔ اس خدائی فیصلہ سے حضرت لوط کی بیوی بھی نہ بچی جو مشرکوں سے ملی ہوئی تھی۔ خدا کا معاملہ ہر شخص سے اس کے ذاتی عمل کی بنیادپر ہوتا ہے، نہ کہ رشتہ اور تعلق کی بنیاد پر۔

تاریخ کے مذکورہ واقعات پر جو شخص غور کرے گا وہ پکار اٹھے گا کہ اس خدا کا شکر ہے جس نے ہر دور میں انسان کی رہنمائی کا انتظام کیا اور پھر ان بندوں کی عقیدت سے اس کا سینہ لبریز ہوجائے گاجنھوں نے اپنی زندگی کامل طورپر خداکے حوالے کرکے خداکے منصوبۂ ہدایت کی تکمیل کی۔