تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

تفسير Tazkir ul Quran: سورة النجم، الآية 47

٤٧:٥٣
وان عليه النشاة الاخرى ٤٧
وَأَنَّ عَلَيْهِ ٱلنَّشْأَةَ ٱلْأُخْرَىٰ ٤٧
وَأَنَّﱌ
عَلَيۡهِﱍ
ٱلنَّشۡأَةَﱎ
ٱلۡأُخۡرَىٰﱏ
٤٧ﱐ
وأن على ربك -أيها الرسول- إعادة خلقهم بعد مماتهم، وهي النشأة الأخرى يوم القيامة.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 53:43إلى 53:49

دنیا کے ہر واقعہ کا تعلق ایسے ماورائی اسباب سے ہوتا ہے کہ خدا کے سوا کوئی اور اس کے ظہور پر قادر نہیں ہوسکتا۔ خوشی اور غم، موت وحیات، تخلیقی نظام، امیری اور غریبی، سب ایک بلند و برتر طاقت کا کرشمہ ہیں۔ قدیم انسان ستاروں کو سبب حیات سمجھتا تھا، موجودہ زمانہ میں قانون فطرت کو سبب حیات سمجھ لیا گیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان اسباب کے اوپر بھی ایک سبب ہے اور وہ خدائے رب العالمین ہے۔ پھر اس کے سوا کسی اور کو مرکز توجہ بنانا انسان کے لیے کس طرح جائز ہوسکتا ہے۔