تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: النجم ٤٤:٥٣

٤٤:٥٣
وانه هو امات واحيا ٤٤
وَأَنَّهُۥ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا ٤٤
وَأَنَّهُۥ
هُوَ
أَمَاتَ
وَأَحۡيَا
٤٤
وأنه سبحانه أمات مَن أراد موته مِن خلقه، وأحيا مَن أراد حياته منهم، فهو المتفرِّد سبحانه بالإحياء والإماتة.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 53:43إلى 53:49

دنیا کے ہر واقعہ کا تعلق ایسے ماورائی اسباب سے ہوتا ہے کہ خدا کے سوا کوئی اور اس کے ظہور پر قادر نہیں ہوسکتا۔ خوشی اور غم، موت وحیات، تخلیقی نظام، امیری اور غریبی، سب ایک بلند و برتر طاقت کا کرشمہ ہیں۔ قدیم انسان ستاروں کو سبب حیات سمجھتا تھا، موجودہ زمانہ میں قانون فطرت کو سبب حیات سمجھ لیا گیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان اسباب کے اوپر بھی ایک سبب ہے اور وہ خدائے رب العالمین ہے۔ پھر اس کے سوا کسی اور کو مرکز توجہ بنانا انسان کے لیے کس طرح جائز ہوسکتا ہے۔