تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

تفسير Tazkir ul Quran: سورة النجم، الآية 29

٢٩:٥٣
فاعرض عن من تولى عن ذكرنا ولم يرد الا الحياة الدنيا ٢٩
فَأَعْرِضْ عَن مَّن تَوَلَّىٰ عَن ذِكْرِنَا وَلَمْ يُرِدْ إِلَّا ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا ٢٩
فَأَعۡرِضۡﱞ
عَنﱟ
مَّنﱠ
تَوَلَّىٰﱡ
عَنﱢ
ذِكۡرِنَاﱣ
وَلَمۡﱤ
يُرِدۡﱥ
إِلَّاﱦ
ٱلۡحَيَوٰةَﱧ
ٱلدُّنۡيَاﱨ
٢٩ﱩ
فأعْرِضْ عمَّن تولى عن ذكرنا، وهو القرآن، ولم يُرِدْ إلا الحياة الدنيا. ذلك الذي هم عليه هو منتهى علمهم وغايتهم. إن ربك هو أعلم بمن حادَ عن طريق الهدى، وهو أعلم بمن اهتدى وسلك طريق الإسلام. وفي هذا إنذار شديد للعصاة المعرضين عن العمل بكتاب الله، وسنة رسوله صلى الله عليه وسلم، المؤثرين لهوى النفس وحظوظ الدنيا على الآخرة.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 53:26إلى 53:30

پتھر کے بت بنا کر ان کو پوجنا، فرشتوں کو خدا کی بیٹی بتانا، سفارشوں کی بنیاد پر جنت کی امید رکھنا یہ سب غیر سنجیدہ عقیدے ہیں۔ اور غیر سنجیدہ عقیدے ہمیشہ اس ذہن میں پیدا ہوتے ہیں جو پکڑ کا خوف نہ رکھتا ہو۔ خوف لا یعنی کلام کا قاتل ہے۔ اور جو شخص بے خوف ہو اس کا دماغ لا یعنی کلام کا کارخانہ بن جائے گا۔

جو لوگ بے خوفی کی نفسیات میں مبتلا ہوں، ان سے بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ایسے لوگ دلیل اور معقولیت پر دھیان نہیں ديتے، اس لیے وہ امر حق کو ماننے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے۔ ان سے مقابلہ کرنے کی ایک ہی ممکن تدبیر ہے۔ وہ یہ کہ ان سے اعراض کیا جائے۔ تاہم اللہ تعالیٰ ہر شخص کی اندرونی حالت کو جانتا ہے اور وہ اس کے مطابق ہر شخص سے معاملہ فرمائے گا۔