تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: النجم ١٢:٥٣

١٢:٥٣
افتمارونه على ما يرى ١٢
أَفَتُمَـٰرُونَهُۥ عَلَىٰ مَا يَرَىٰ ١٢
أَفَتُمَٰرُونَهُۥ
عَلَىٰ
مَا
يَرَىٰ
١٢
أتُكذِّبون محمدًا صلى الله عليه وسلم، فتجادلونه على ما يراه ويشاهده من آيات ربه؟ ولقد رأى محمد صلى الله عليه وسلم جبريل على صورته الحقيقية مرة أخرى عند سدرة المنتهى -شجرة نَبْق- وهي في السماء السابعة، ينتهي إليها ما يُعْرَج به من الأرض، وينتهي إليها ما يُهْبَط به من فوقها، عندها جنة المأوى التي وُعِد بها المتقون. إذ يغشى السدرة من أمر الله شيء عظيم، لا يعلم وصفه إلا الله عز وجل. وكان النبي صلى الله عليه وسلم على صفة عظيمة من الثبات والطاعة، فما مال بصره يمينًا ولا شمالا ولا جاوز ما أُمِر برؤيته. لقد رأى محمد صلى الله عليه وسلم ليلة المعراج من آيات ربه الكبرى الدالة على قدرة الله وعظمته من الجنة والنار وغير ذلك.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 53:1إلى 53:25

لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔

’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔