تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: آل عمران ١٥٧:٣

١٥٧:٣
ولين قتلتم في سبيل الله او متم لمغفرة من الله ورحمة خير مما يجمعون ١٥٧
وَلَئِن قُتِلْتُمْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ أَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌۭ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَحْمَةٌ خَيْرٌۭ مِّمَّا يَجْمَعُونَ ١٥٧
وَلَئِن
قُتِلۡتُمۡ
فِي
سَبِيلِ
ٱللَّهِ
أَوۡ
مُتُّمۡ
لَمَغۡفِرَةٞ
مِّنَ
ٱللَّهِ
وَرَحۡمَةٌ
خَيۡرٞ
مِّمَّا
يَجۡمَعُونَ
١٥٧
ولئن قُتِلتم -أيها المؤمنون- وأنتم تجاهدون في سبيل الله أو متم في أثناء القتال، ليغفرن الله لكم ذنوبكم، وليرحمنكم رحمة من عنده، فتفوزون بجنات النعيم، وذلك خير من الدنيا وما يجمعه أهلها.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 3:156إلى 3:158
باطل خیالات کی نشاندہی ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو کافروں جیسے فاسد اعتقاد رکھنے کی ممانعت فرما رہا ہے یہ کفار سمجھتے تھے کہ ان کے لوگ جو سفر میں یا لڑائی میں مرے اگر وہ سفر اور لڑائی نہ کرتے تو نہ مرتے پھر فرماتا ہے کہ یہ باطل خیال بھی ان کی حسرت و افسوس کا بڑھانے والا ہے، دراصل موت و حیات اللہ کے ہاتھ ہے مرتا ہے اس کی چاہت سے اور زندگی ملتی ہے تو اس کے ارادے سے، تمام امور کا جاری کرنا اس کے قبضہ میں ہے اس کی قضاء و قدر ٹلتی نہیں اس کے علم سے اور اس کی نگاہ سے کوئی چیز باہر نہیں تمام مخلوق کے ہر امر کو وہ بخوبی جانتا ہے۔

دوسری آیت بتلا رہی ہے کہ اللہ کی راہ میں قتل ہونا یا مرنا اللہ کی مغفرت و رحمت کا ذریعہ ہے اور یہ قطعاً دنیا و مافیہا سے بہتر ہے کیونکہ یہ فانی ہے اور وہ باقی اور ابدی ہے پھر ارشاد ہوتا ہے کہ خواہ کسی طرح دنیا چھوڑو مر کر یا قتل ہو کر لوٹنا تو اللہ ہی کی طرف ہے پھر اپنے اعمال کا بدلہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے برا ہو تو بھلا ہو تو۔!

صفحہ نمبر1351