تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

تفسير Bayan ul Quran: سورة الواقعة، الآية 8

٨:٥٦
فاصحاب الميمنة ما اصحاب الميمنة ٨
فَأَصْحَـٰبُ ٱلْمَيْمَنَةِ مَآ أَصْحَـٰبُ ٱلْمَيْمَنَةِ ٨
فَأَصۡحَٰبُﲏ
ٱلۡمَيۡمَنَةِﲐ
مَآﲑ
أَصۡحَٰبُﲒ
ٱلۡمَيۡمَنَةِﲓ
٨ﲔ
فأصحاب اليمين، أهل المنزلة العالية، ما أعظم مكانتهم!! وأصحاب الشمال، أهل المنزلة الدنيئة، ما أسوأ حالهم!!
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت 8{ فَاَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ لا مَآ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ۔ } ”تو جو داہنے والے ہوں گے ‘ کیا خوب ہوں گے وہ داہنے والے !“ داہنے والوں کی خوش نصیبی کا کیا کہناہو گا۔۔۔ یا تم لوگوں کو کیا معلوم کہ وہ داہنے والے لوگ کون ہوں گے ‘ ان کی کیا شان ہوگی اور وہ کس کیفیت میں ہوں گے۔ مَیْمَنَۃ ”یمین“ سے بھی ہوسکتا ہے جس کے معنی سیدھے ہاتھ کے ہیں ‘ اور ”یُمن“ سے بھی ہوسکتا ہے جس کے معنی برکت اور خوش نصیبی کے ہیں۔ اس اعتبار سے اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃ کا ترجمہ مبارک لوگ یا خوش نصیب اور نیک بخت لوگ بھی ہوسکتا ہے۔