تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Bayan ul Quran التفسير: القيامة آية 7

٧:٧٥
فاذا برق البصر ٧
فَإِذَا بَرِقَ ٱلْبَصَرُ ٧
فَإِذَاﲜ
بَرِقَﲝ
ٱلۡبَصَرُﲞ
٧ﲟ
فإذا تحيَّر البصر ودُهش فزعًا مما رأى من أهوال يوم القيامة، وذهب نور القمر، وجُمِع بين الشمس والقمر في ذهاب الضوء، فلا ضوء لواحد منهما، يقول الإنسان وقتها: أين المهرب من العذاب؟
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 75:6إلى 75:7

آیت 6{ یَسْئَلُ اَیَّانَ یَوْمُ الْقِیٰمَۃِ۔ } ”وہ پوچھتا ہے : کب آئے گا قیامت کا دن ؟“ مشرکین مکہ حضور ﷺ سے یہ سوال طنزیہ طور پر پوچھتے تھے۔ اسی لیے اس کا جواب بھی بہت تیکھے انداز میں دیا گیا ہے۔ سوال و جواب کا یہی انداز اور اسلوب سورة الذاریات کی ان آیات میں بھی پایا جاتا ہے : { یَسْئَلُوْنَ اَیَّانَ یَوْمُ الدِّیْنِ - یَوْمَ ہُمْ عَلَی النَّارِ یُفْتَنُوْنَ۔ } ”وہ پوچھتے ہیں کب آئے گا وہ جزا و سزا کا دن ؟ جس دن یہ لوگ آگ پر سینکے جائیں گے“۔ مذکورہ سوال کا جواب بھی بالکل اسی انداز میں دیا جا رہا ہے۔ ملاحظہ ہو :