تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: القيامة ٤٠:٧٥

٤٠:٧٥
اليس ذالك بقادر على ان يحيي الموتى ٤٠
أَلَيْسَ ذَٰلِكَ بِقَـٰدِرٍ عَلَىٰٓ أَن يُحْـِۧىَ ٱلْمَوْتَىٰ ٤٠
أَلَيۡسَ
ذَٰلِكَ
بِقَٰدِرٍ
عَلَىٰٓ
أَن
يُحۡـِۧيَ
ٱلۡمَوۡتَىٰ
٤٠
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 75:31إلى 75:40

انسان ابتداء ًاپنی ماں کی پیٹ میں ایک بوند کی مانند داخل ہوتا ہے۔ پھر وہ بڑھ کر علقہ (جونک) کی مانند ہوجاتا ہے۔ پھر مزید ترقی ہوتی ہے اور اس کے اعضاء اور نقوش بنتے ہیں۔ پھر وہ مرد یا عورت بن کر باہر آتا ہے۔ یہ تمام حیرت ناک تصرفات انسان کی کوشش کے بغیر ہوتے ہیں۔ پھر قدرت کا جو نظام روزانہ یہ عجائب ظہور میں لا رہا ہے اس کے لیے موجودہ دنیا کے بعد ایک اور دنیا بنا دینا کیا مشکل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سچائی کو ماننے میں جو چیز رکاوٹ بنتی ہے وہ لوگوں کی انانیت ہے، نہ کہ دلائل و قرائن کی کمی۔