تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Tazkir ul Quran التفسير: القيامة آية 37

٣٧:٧٥
الم يك نطفة من مني يمنى ٣٧
أَلَمْ يَكُ نُطْفَةًۭ مِّن مَّنِىٍّۢ يُمْنَىٰ ٣٧
أَلَمۡﲐ
يَكُﲑ
نُطۡفَةٗﲒ
مِّنﲓ
مَّنِيّٖﲔ
يُمۡنَىٰﲕ
٣٧ﲖ
أيظنُّ هذا الإنسان المنكر للبعث أن يُترك هَمَلا لا يُؤمر ولا يُنْهى، ولا يحاسب ولا يعاقب؟ ألم يك هذا الإنسان نطفة ضعيفة من ماء مهين يراق ويصب في الأرحام، ثم صار قطعة من دم جامد، فخلقه الله بقدرته وسوَّى صورته في أحسن تقويم؟ فجعل من هذا الإنسان الصنفين: الذكر والأنثى، أليس ذلك الإله الخالق لهذه الأشياء بقادر على إعادة الخلق بعد فنائهم؟ بلى إنه - سبحانه وتعالى- لقادر على ذلك.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 75:31إلى 75:40

انسان ابتداء ًاپنی ماں کی پیٹ میں ایک بوند کی مانند داخل ہوتا ہے۔ پھر وہ بڑھ کر علقہ (جونک) کی مانند ہوجاتا ہے۔ پھر مزید ترقی ہوتی ہے اور اس کے اعضاء اور نقوش بنتے ہیں۔ پھر وہ مرد یا عورت بن کر باہر آتا ہے۔ یہ تمام حیرت ناک تصرفات انسان کی کوشش کے بغیر ہوتے ہیں۔ پھر قدرت کا جو نظام روزانہ یہ عجائب ظہور میں لا رہا ہے اس کے لیے موجودہ دنیا کے بعد ایک اور دنیا بنا دینا کیا مشکل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سچائی کو ماننے میں جو چیز رکاوٹ بنتی ہے وہ لوگوں کی انانیت ہے، نہ کہ دلائل و قرائن کی کمی۔