تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

تفسير Tazkir ul Quran: سورة القيامة، الآية 31

٣١:٧٥
فلا صدق ولا صلى ٣١
فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّىٰ ٣١
فَلَاﱲ
صَدَّقَﱳ
وَلَاﱴ
صَلَّىٰﱵ
٣١ﱶ
فلا آمن الكافر بالرسول والقرآن، ولا أدَّى لله تعالى فرائض الصلاة، ولكن كذَّب بالقرآن، وأعرض عن الإيمان، ثم مضى إلى أهله يتبختر مختالا في مشيته. هلاك لك فهلاك، ثم هلاك لك فهلاك.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 75:31إلى 75:40

انسان ابتداء ًاپنی ماں کی پیٹ میں ایک بوند کی مانند داخل ہوتا ہے۔ پھر وہ بڑھ کر علقہ (جونک) کی مانند ہوجاتا ہے۔ پھر مزید ترقی ہوتی ہے اور اس کے اعضاء اور نقوش بنتے ہیں۔ پھر وہ مرد یا عورت بن کر باہر آتا ہے۔ یہ تمام حیرت ناک تصرفات انسان کی کوشش کے بغیر ہوتے ہیں۔ پھر قدرت کا جو نظام روزانہ یہ عجائب ظہور میں لا رہا ہے اس کے لیے موجودہ دنیا کے بعد ایک اور دنیا بنا دینا کیا مشکل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سچائی کو ماننے میں جو چیز رکاوٹ بنتی ہے وہ لوگوں کی انانیت ہے، نہ کہ دلائل و قرائن کی کمی۔