تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: القيامة ٢٦:٧٥

٢٦:٧٥
كلا اذا بلغت التراقي ٢٦
كَلَّآ إِذَا بَلَغَتِ ٱلتَّرَاقِىَ ٢٦
كـَلَّآ
إِذَا
بَلَغَتِ
ٱلتَّرَاقِيَ
٢٦
حقًّا إذا وصلت الروح إلى أعالي الصدر، وقال بعض الحاضرين لبعض: هل مِن راق يَرْقيه ويَشْفيه مما هو فيه؟ وأيقن المحتضر أنَّ الذي نزل به هو فراق الدنيا؛ لمعاينته ملائكة الموت، واتصلت شدة آخر الدنيا بشدة أول الآخرة، إلى الله تعالى مساق العباد يوم القيامة: إما إلى الجنة وإما إلى النار.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 75:20إلى 75:30

آخرت کی طرف سے غفلت کی وجہ ہمیشہ صرف ایک ہوتی ہے، اور وہ حبِّ عاجلہ ہے۔ یعنی اپنے عمل کا فوری نتیجہ چاہنا۔ آخرت کے لیے عمل کا نتیجہ دیر میں ملتا ہے ۔ اس لیے آدمی اس کو نظر انداز کردیتا ہے، اور دنیا کے لیے عمل کا نتیجہ فوراً ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس لیے آدمی اس کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ ہر آدمی پر آخر کار موت طاری ہوتی ہے اور اس کی تمام کامیابیوں کو باطل کردیتی ہے۔ مگر کوئی شخص اس سے سبق نہیں لیتا۔ یہاں تک کہ خود اس کی موت کا لمحہ آجائے اور وہ اس سے سبق لینے کی مہلت چھین لے۔