تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Tazkir ul Quran التفسير: القيامة آية 22

٢٢:٧٥
وجوه يوميذ ناضرة ٢٢
وُجُوهٌۭ يَوْمَئِذٍۢ نَّاضِرَةٌ ٢٢
وُجُوهٞﱉ
يَوۡمَئِذٖﱊ
نَّاضِرَةٌﱋ
٢٢ﱌ
وجوه أهل السعادة يوم القيامة مشرقة حسنة ناعمة، ترى خالقها ومالك أمرها، فتتمتع بذلك.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 75:20إلى 75:30

آخرت کی طرف سے غفلت کی وجہ ہمیشہ صرف ایک ہوتی ہے، اور وہ حبِّ عاجلہ ہے۔ یعنی اپنے عمل کا فوری نتیجہ چاہنا۔ آخرت کے لیے عمل کا نتیجہ دیر میں ملتا ہے ۔ اس لیے آدمی اس کو نظر انداز کردیتا ہے، اور دنیا کے لیے عمل کا نتیجہ فوراً ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس لیے آدمی اس کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ ہر آدمی پر آخر کار موت طاری ہوتی ہے اور اس کی تمام کامیابیوں کو باطل کردیتی ہے۔ مگر کوئی شخص اس سے سبق نہیں لیتا۔ یہاں تک کہ خود اس کی موت کا لمحہ آجائے اور وہ اس سے سبق لینے کی مہلت چھین لے۔