تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Bayan ul Quran التفسير: القيامة آية 21

٢١:٧٥
وتذرون الاخرة ٢١
وَتَذَرُونَ ٱلْـَٔاخِرَةَ ٢١
وَتَذَرُونَﱆ
ٱلۡأٓخِرَةَﱇ
٢١ﱈ
ليس الأمر كما زعمتم- يا معشر المشركين- أن لا بعث ولا جزاء، بل أنتم قوم تحبون الدنيا وزينتها، وتتركون الآخرة ونعيمها.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت 21{ وَتَذَرُوْنَ الْاٰخِرَۃَ۔ } ”اور تم آخرت کو چھوڑ دیتے ہو۔“ یہاں خطاب کا رخ کفار کی طرف ہے۔ یعنی تمہارا اصل مرض ہی یہ ہے کہ تم لوگ ”حب ِعاجلہ“ میں مبتلاہو ‘ اپنی دنیا کی زندگی اور دنیا کے مال و اسباب سے محبت کرتے ہو اور اس کے مقابلے میں آخرت کو بالکل ہی نظر انداز کیے ہوئے ہو۔