تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Tazkir ul Quran التفسير: القصص آية 87

٨٧:٢٨
ولا يصدنك عن ايات الله بعد اذ انزلت اليك وادع الى ربك ولا تكونن من المشركين ٨٧
وَلَا يَصُدُّنَّكَ عَنْ ءَايَـٰتِ ٱللَّهِ بَعْدَ إِذْ أُنزِلَتْ إِلَيْكَ ۖ وَٱدْعُ إِلَىٰ رَبِّكَ ۖ وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ ٨٧
وَلَاﱧ
يَصُدُّنَّكَﱨ
عَنۡﱩ
ءَايَٰتِﱪ
ٱللَّهِﱫ
بَعۡدَﱬ
إِذۡﱭ
أُنزِلَتۡﱮ
إِلَيۡكَۖﱯﱰ
وَٱدۡعُﱱ
إِلَىٰﱲ
رَبِّكَۖﱳﱴ
وَلَاﱵ
تَكُونَنَّﱶ
مِنَﱷ
ٱلۡمُشۡرِكِينَﱸ
٨٧ﱹ
ولا يصرفَنَّك هؤلاء المشركون عن تبليغ آيات ربك وحججه، بعد أن أنزلها إليك، وبلِّغ رسالة ربك، ولا تكونن من المشركين في شيء.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 28:85إلى 28:88

پیغمبر کا معاملہ ہر اعتبار سے خدائی معاملہ ہوتاہے۔ اس کو پیغمبری کسی طلب کے بغیر یک طرفہ طور پر خدا کی طرف سے دی جاتی ہے۔ وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ حق پر قائم ہوتا ہے۔ وہ مامور ہوتاہے کہ خالص بے آمیز صداقت کا اعلان کرے، خواہ وہ لوگوں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ اس کےلیے مقدر ہوتاہے کہ وہ لازمی طورپر اپنی مطلوبہ منزل تک پہنچے اور کوئی رکاوٹ اس کےلیے رکاوٹ نہ بننے پائے۔

یہی معاملہ پیغمبر کے بعد پیغمبر کی پیروی میں اٹھنے والے داعی کا ہوتاہے۔ وہ جس حد تک پیغمبر کی مشابہت کرے گا اسی قدر وہ خدا کے ان وعدوں کا مستحق ہوتا چلا جائے گا جو اس نے اپنے پیغمبروں سے اپنی کتاب میں کيے ہیں۔