تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Tazkir ul Quran التفسير: القصص آية 85

٨٥:٢٨
ان الذي فرض عليك القران لرادك الى معاد قل ربي اعلم من جاء بالهدى ومن هو في ضلال مبين ٨٥
إِنَّ ٱلَّذِى فَرَضَ عَلَيْكَ ٱلْقُرْءَانَ لَرَآدُّكَ إِلَىٰ مَعَادٍۢ ۚ قُل رَّبِّىٓ أَعْلَمُ مَن جَآءَ بِٱلْهُدَىٰ وَمَنْ هُوَ فِى ضَلَـٰلٍۢ مُّبِينٍۢ ٨٥
إِنَّﱁ
ٱلَّذِيﱂ
فَرَضَﱃ
عَلَيۡكَﱄ
ٱلۡقُرۡءَانَﱅ
لَرَآدُّكَﱆ
إِلَىٰﱇ
مَعَادٖۚﱈﱉ
قُلﱊ
رَّبِّيٓﱋ
أَعۡلَمُﱌ
مَنﱍ
جَآءَﱎ
بِٱلۡهُدَىٰﱏ
وَمَنۡﱐ
هُوَﱑ
فِيﱒ
ضَلَٰلٖﱓ
مُّبِينٖﱔ
٨٥ﱕ
إن الذي أنزل عليك -أيها الرسول- القرآن، وفرض عليك تبليغه والتمسُّك به، لمرجعك إلى الموضع الذي خرجت منه، وهو «مكة» ، قل -أيها الرسول- لهؤلاء المشركين: ربي أعلم مَن جاء بالهدى، ومن هو في ذهابٍ واضحٍ عن الحق.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 28:85إلى 28:88

پیغمبر کا معاملہ ہر اعتبار سے خدائی معاملہ ہوتاہے۔ اس کو پیغمبری کسی طلب کے بغیر یک طرفہ طور پر خدا کی طرف سے دی جاتی ہے۔ وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ حق پر قائم ہوتا ہے۔ وہ مامور ہوتاہے کہ خالص بے آمیز صداقت کا اعلان کرے، خواہ وہ لوگوں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ اس کےلیے مقدر ہوتاہے کہ وہ لازمی طورپر اپنی مطلوبہ منزل تک پہنچے اور کوئی رکاوٹ اس کےلیے رکاوٹ نہ بننے پائے۔

یہی معاملہ پیغمبر کے بعد پیغمبر کی پیروی میں اٹھنے والے داعی کا ہوتاہے۔ وہ جس حد تک پیغمبر کی مشابہت کرے گا اسی قدر وہ خدا کے ان وعدوں کا مستحق ہوتا چلا جائے گا جو اس نے اپنے پیغمبروں سے اپنی کتاب میں کيے ہیں۔