تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Bayan ul Quran التفسير: القصص آية 75

٧٥:٢٨
ونزعنا من كل امة شهيدا فقلنا هاتوا برهانكم فعلموا ان الحق لله وضل عنهم ما كانوا يفترون ٧٥
وَنَزَعْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍۢ شَهِيدًۭا فَقُلْنَا هَاتُوا۟ بُرْهَـٰنَكُمْ فَعَلِمُوٓا۟ أَنَّ ٱلْحَقَّ لِلَّهِ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يَفْتَرُونَ ٧٥
وَنَزَعۡنَاﲄ
مِنﲅ
كُلِّﲆ
أُمَّةٖﲇ
شَهِيدٗاﲈ
فَقُلۡنَاﲉ
هَاتُواْﲊ
بُرۡهَٰنَكُمۡﲋ
فَعَلِمُوٓاْﲌ
أَنَّﲍ
ٱلۡحَقَّﲎ
لِلَّهِﲏ
وَضَلَّﲐ
عَنۡهُمﲑ
مَّاﲒ
كَانُواْﲓ
يَفۡتَرُونَﲔ
٧٥ﲕ
ونزعنا من كل أمة من الأمم المكذبة شهيدا -وهو نبيُّهم-، يشهد على ما جرى في الدنيا من شركهم وتكذيبهم لرسلهم، فقلنا لتلك الأمم التي كذبت رسلها وما جاءت به من عند الله: هاتوا حجتكم على ما أشركتم مع الله، فعلموا حينئذ أن الحجة البالغة لله عليهم، وأن الحق لله، وذهب عنهم ما كانوا يفترون على ربهم، فلم ينفعهم ذلك، بل ضرَّهم وأوردهم نار جهنم.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت 75 وَنَزَعْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ شَہِیْدًا ”یہ مضمون دو مرتبہ سورة النحل آیت 84 اور 89 میں بھی آیا ہے ‘ لیکن سورة النساء کی یہ آیت تو گویا اس مضمون کا ذروۂ سنام ہے : فَکَیْفَ اِذَا جِءْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍم بِشَہِیْدٍ وَّجِءْنَا بِکَ عَلٰی ہٰٓؤُلَآءِ شَہِیْدًا۔ ”تو اس دن کیا صورت حال ہوگی جب ہم ہر امت سے ایک گواہ کھڑا کریں گے اور اے نبی ﷺ ! آپ کو لائیں گے ہم ان پر گواہ بنا کر“۔ جو پیغمبر جس قوم کی طرف مبعوث کیا گیا ہوگا وہ قیامت کے دن اللہ کی عدالت میں استغاثہ کا گواہ prosecution witness بن کر گواہی دے گا کہ اے اللہ ! تیری طرف سے جو ہدایت مجھ تک پہنچی تھی میں نے وہ اپنی قوم تک پہنچا دی تھی۔ فَقُلْنَا ہَاتُوْا بُرْہَانَکُمْ ”پھر متعلقہ امت سے پوچھا جائے گا کہ اب تم لوگ بتاؤ تمہارا کیا معاملہ تھا ؟ ہمارے رسول نے تو گواہی دے دی ہے کہ اس نے میرا پیغام آپ لوگوں تک پہنچا دیا تھا۔ اب اس سلسلے میں تمہارا کوئی عذر ہے تو پیش کرو۔فَعَلِمُوْٓا اَنَّ الْحَقَّ لِلّٰہِ ”کہ فیصلہ تو اب اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے اور وہی حق ہوگا۔ چناچہ انہیں یقین ہوجائے گا کہ وہ عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں۔وَضَلَّ عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ”گویا ع ”جب آنکھ کھلی گل کی تو موسم تھا خزاں کا !“ جب دوسری دنیا میں ان کی آنکھ کھلے گی تو ان کے خود ساختہ عقائد ‘ من گھڑت معبودوں کے بارے میں ان کے خوش کن خیالات وغیرہ سب ان سے گم ہوچکے ہوں گے اور اس کیفیت میں عذاب کو دیکھ کر ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔