تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

تفسير Bayan ul Quran: سورة القصص، الآية 66

٦٦:٢٨
فعميت عليهم الانباء يوميذ فهم لا يتساءلون ٦٦
فَعَمِيَتْ عَلَيْهِمُ ٱلْأَنۢبَآءُ يَوْمَئِذٍۢ فَهُمْ لَا يَتَسَآءَلُونَ ٦٦
فَعَمِيَتۡﲙ
عَلَيۡهِمُﲚ
ٱلۡأَنۢبَآءُﲛ
يَوۡمَئِذٖﲜ
فَهُمۡﲝ
لَاﲞ
يَتَسَآءَلُونَﲟ
٦٦ﲠ
فخفيت عليهم الحجج، فلم يَدْروا ما يحتجون به، فهم لا يسأل بعضهم بعضًا عما يحتجون به سؤال انتفاع.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 28:66إلى 28:67

آیت 66 فَعَمِیَتْ عَلَیْہِمُ الْاَنْبَآءُ یَوْمَءِذٍ فَہُمْ لَا یَتَسَآءَ لُوْنَ ”م حق اس طرح واضح ہو کر ان کے سامنے آجائے گا کہ اس کے جواب میں وہ کچھ بھی نہیں بول سکیں گے۔ ظاہر ہے زندگی بھر وہ اللہ کی نا فرمانیاں اور انبیاء و رسل کے ساتھ استہزاء و تمسخر کرتے رہے تھے۔ چناچہ جب ان سے پوچھا جائے گا کہ جو رسول تمہاری طرف بھیجے گئے تھے انہیں تم نے کیا جواب دیا تھا تو اس وقت ان کو کوئی جواب نہیں سوجھے گا۔