تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Bayan ul Quran التفسير: القصص آية 61

٦١:٢٨
افمن وعدناه وعدا حسنا فهو لاقيه كمن متعناه متاع الحياة الدنيا ثم هو يوم القيامة من المحضرين ٦١
أَفَمَن وَعَدْنَـٰهُ وَعْدًا حَسَنًۭا فَهُوَ لَـٰقِيهِ كَمَن مَّتَّعْنَـٰهُ مَتَـٰعَ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ثُمَّ هُوَ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ مِنَ ٱلْمُحْضَرِينَ ٦١
أَفَمَنﱓ
وَعَدۡنَٰهُﱔ
وَعۡدًاﱕ
حَسَنٗاﱖ
فَهُوَﱗ
لَٰقِيهِﱘ
كَمَنﱙ
مَّتَّعۡنَٰهُﱚ
مَتَٰعَﱛ
ٱلۡحَيَوٰةِﱜ
ٱلدُّنۡيَاﱝ
ثُمَّﱞ
هُوَﱟ
يَوۡمَﱠ
ٱلۡقِيَٰمَةِﱡ
مِنَﱢ
ٱلۡمُحۡضَرِينَﱣ
٦١ﱤ
أفمَن وعدناه مِن خَلْقنا على طاعته إيانا الجنة، فهو ملاقٍ ما وُعِدَ، وصائر إليه، كمن متعناه في الحياة الدنيا متاعها، فتمتع به، وآثر لذة عاجلة على آجلة، ثم هو يوم القيامة من المحضرين للحساب والجزاء؟ لا يستوي الفريقان، فليختر العاقل لنفسه ما هو أولى بالاختيار، وهو طاعة الله وابتغاء مرضاته.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت 61 اَفَمَنْ وَّعَدْنٰہُ وَعْدًا حَسَنًا فَہُوَ لَاقِیْہِ کَمَنْ مَّتَّعْنٰہُ مَتَاعَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ”یعنی ایک وہ بندہ جو اپنی دنیوی زندگی میں آخرت کے بارے میں اللہ کے اچھے وعدوں کا مصداق بنتا ہے اور اللہ تعالیٰ اسے اپنے وعدوں کے مطابق جنت اور اس کی نعمتیں عطا فرمانے والا ہے ‘ کیا کبھی اس شخص کی مانند ہوسکتا ہے جسے صرف حیات دنیا کا سروسامان دے دیا گیا ہو ؟ ثُمَّ ہُوَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ ”ظاہر ہے دونوں طرح کے لوگ برابر تو نہیں ہوسکتے۔ قیامت کے دن نیک لوگ اللہ کے وعدوں کے مطابق اس کی رحمت کے سائے میں ہوں گے ‘ جبکہ دنیا میں عیش و عشرت کے مزے لینے والے اور اپنے من پسند انداز میں گل چھرے ّ اُڑانے والے باغی اس دن بیڑیاں پہنے ہوئے مجرموں کی حیثیت سے اللہ کے حضور پیش ہوں گے۔