تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Tazkir ul Quran التفسير: القصص آية 59

٥٩:٢٨
وما كان ربك مهلك القرى حتى يبعث في امها رسولا يتلو عليهم اياتنا وما كنا مهلكي القرى الا واهلها ظالمون ٥٩
وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ ٱلْقُرَىٰ حَتَّىٰ يَبْعَثَ فِىٓ أُمِّهَا رَسُولًۭا يَتْلُوا۟ عَلَيْهِمْ ءَايَـٰتِنَا ۚ وَمَا كُنَّا مُهْلِكِى ٱلْقُرَىٰٓ إِلَّا وَأَهْلُهَا ظَـٰلِمُونَ ٥٩
وَمَاﲽ
كَانَﲾ
رَبُّكَﲿ
مُهۡلِكَﳀ
ٱلۡقُرَىٰﳁ
حَتَّىٰﳂ
يَبۡعَثَﳃ
فِيٓﳄ
أُمِّهَاﳅ
رَسُولٗاﳆ
يَتۡلُواْﳇ
عَلَيۡهِمۡﳈ
ءَايَٰتِنَاۚﳉﳊ
وَمَاﳋ
كُنَّاﳌ
مُهۡلِكِيﳍ
ٱلۡقُرَىٰٓﳎ
إِلَّاﳏ
وَأَهۡلُهَاﳐ
ظَٰلِمُونَﳑ
٥٩ﳒ
وما كان ربك -أيها الرسول- مهلك القرى التي حول «مكة» في زمانك حتى يبعث في أمها -وهي «مكة» - رسولا يتلو عليهم آياتنا، وما كنا مهلكي القرى إلا وأهلها ظالمون لأنفسهم بكفرهم بالله ومعصيته، فهم بذلك مستحقون للعقوبة والنكال.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 28:58إلى 28:59

دنیا میں کسی کو مادی استحکام حاصل ہو تو وہ بڑائی کے احساس میںمبتلا ہوجاتا ہے۔حالاں کہ تاریخ مسلسل یہ سبق دے رہی ہے کہ کسی بھی شخص یا قوم کا مادی استحکام مستقل نہیں۔ جب بھی کسی قوم نے حق کو نظر انداز کیا، ساری عظمت کے باوجود وہ ہلاک کردی گئی۔

عرب کے جغرافیہ میںاسلام سے پہلے مختلف قومیں ابھریں۔ مثلاً عاد، ثمود، سبا، مدین، قوم لوط وغیرہ۔ ہر ایک کبر میں مبتلا ہوگئی۔ مگر ہر ایک کا کبر زمانہ نے باطل کر دیا۔ اور بالآخر ان کی حیثیت گزری ہوئی کہانی کے سوا اور کچھ نہ رہی۔ ان قوموں کے کھنڈر چاروں طرح پھیلے ہوئے انسانی عظمت کی نفی کررہے تھے۔ اس کے باوجود پیغمبر اسلام کے زمانہ میں جن لوگوں کو بڑائی حاصل تھی انھوںنے پیغمبر کو اس طرح جھٹلادیا جیسے کہ ماضی کے واقعات میں ان کے حال کے ليے کوئی نصیحت نہیں۔