تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Tazkir ul Quran التفسير: القصص آية 57

٥٧:٢٨
وقالوا ان نتبع الهدى معك نتخطف من ارضنا اولم نمكن لهم حرما امنا يجبى اليه ثمرات كل شيء رزقا من لدنا ولاكن اكثرهم لا يعلمون ٥٧
وَقَالُوٓا۟ إِن نَّتَّبِعِ ٱلْهُدَىٰ مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ أَرْضِنَآ ۚ أَوَلَمْ نُمَكِّن لَّهُمْ حَرَمًا ءَامِنًۭا يُجْبَىٰٓ إِلَيْهِ ثَمَرَٰتُ كُلِّ شَىْءٍۢ رِّزْقًۭا مِّن لَّدُنَّا وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ٥٧
وَقَالُوٓاْﲎ
إِنﲏ
نَّتَّبِعِﲐ
ٱلۡهُدَىٰﲑ
مَعَكَﲒ
نُتَخَطَّفۡﲓ
مِنۡﲔ
أَرۡضِنَآۚﲕﲖ
أَوَلَمۡﲗ
نُمَكِّنﲘ
لَّهُمۡﲙ
حَرَمًاﲚ
ءَامِنٗاﲛ
يُجۡبَىٰٓﲜ
إِلَيۡهِﲝ
ثَمَرَٰتُﲞ
كُلِّﲟ
شَيۡءٖﲠ
رِّزۡقٗاﲡ
مِّنﲢ
لَّدُنَّاﲣ
وَلَٰكِنَّﲤ
أَكۡثَرَهُمۡﲥ
لَاﲦ
يَعۡلَمُونَﲧ
٥٧ﲨ
وقال كفار «مكة» : إن نتبع الحق الذي جئتنا به، ونتبرأ من الأولياء والآلهة، نُتَخَطَّفْ من أرضنا بالقتل والأسر ونهب الأموال، أو لم نجعلهم متمكنين في بلد آمن، حرَّمنا على الناس سفك الدماء فيه، يُجلب إليه ثمرات كل شيء رزقًا مِن لدنا؟ ولكن أكثر هؤلاء المشركين لا يعلمون قَدْر هذه النعم عليهم، فيشكروا مَن أنعم عليهم بها ويطيعوه.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

جس نظام سے آدمی کے فائدے وابستہ ہوجائیں وہ سمجھنے لگتاہے کہ مجھ کو جو کچھ مل رہا ہے وہ اسی نظام کی بدولت مل رہا ہے۔ آدمی صرف حال کے فائدوں کو جانتا ہے، وہ مستقبل کے فائدوں کو نہیں جانتا۔

یہی معاملہ قدیم مکہ کے مشرکوں کا تھا۔ انھوں نے کعبہ میں تمام عرب قبیلوں کے بت رکھ دئے تھے۔ اس طرح انھیں پورے ملک کی مذہبی سرداری حاصل ہوگئی تھی۔ اسی طرح ان بتوں کے نام پر جو نذرانے آتے تھے وہ بھی ان کی معاش کا خاص ذریعہ تھے۔

مگر یہ صرف ان کی تنگ نظری تھی۔ خدا کا رسول انھیں ایک ایسے دین کی طر ف بلا رہا تھا جو انھیں عالم کی امامت دینے والا تھا، اور وہ ایک ایسے دین کی خاطر اس کو چھوڑ رہے تھے جس کے پاس ملک کے قبیلوں کی معمولی سرداری کے سوا اور کچھ نہ تھا۔